نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبے وقت کی ضرورت ہیں، جام کمال خان

4

اسلام آباد،8 اگست ( اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، جن کا مقصد اختیارات اور وسائل کو عوام کے مزید قریب لانا ہونا چاہیے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں جام کمال خان نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔

‎انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، تاہم صوبوں سے اضلاع تک اسی انداز میں اختیارات منتقل نہیں ہوئے۔ اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات اور وسائل عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا تھا۔

‎وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ صوبوں کے اندر اضلاع کو وسائل کی تقسیم کے لیے بھی واضح اور منصفانہ فارمولا ہونا چاہیے۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی طرز پر اضلاع میں وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار بنایا جائے۔ ایک ضلع کو دو ارب اور دوسرے کو بیس ارب ملیں گے تو ترقی میں فرق لازمی پیدا ہوگا۔

جام کمال خان کے مطابق وسائل کی غیر مساوی تقسیم سے عوام میں محرومی، بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ترقیاتی وسائل چند افراد یا محدود گروہوں کی صوابدید پر تقسیم نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی ضلع کی عوام کو صرف اس لیے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا نمائندہ حکومت میں شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے مجموعی رقبے کا 44 فیصد ہے اور بلوچستان کے بعض علاقوں سے صوبائی صدر مقام تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بنیادی سرکاری خدمات کے لیے چھ سو، سات سو یا ایک ہزار کلومیٹر سفر نہیں کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے لوگوں کو بنیادی خدمات اپنے علاقوں کے قریب میسر آئیں گی، جبکہ چند اضلاع پر مشتمل انتظامی یونٹس میں مقامی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔ چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے ترقیاتی وسائل کی زیادہ متوازن تقسیم ممکن ہوگی اور مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں گے تو حکومت اور سیاسی جماعتیں مقامی نمائندوں کو نظر انداز نہیں کر سکیں گی اور نگرانی و توازن کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔

‎جام کمال خان نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کو انتظامی اصلاحات کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کونسلر عوام کے سب سے قریب ہوتا ہے، اس لیے مقامی حکومتوں کو وسائل اور اختیارات دینا ہوں گے۔

‎انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کو یکساں انتظامی سہولیات اور ضروری وسائل میسر ہونے چاہئیں۔ جس ضلع کے پاس گاڑی، افرادی قوت اور ضروری آلات نہ ہوں، اس سے یکساں کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

‎وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر پارلیمنٹ، سینیٹ، ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ گورننس کے نظام کو عوام کی موجودہ ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جائے۔جام کمال خان نے کہا کہ مقصد سیاست نہیں بلکہ عوام کو بہتر خدمات اور وسائل کی ‎منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔