اسلام آباد، 10 اگست(اے پی پی): ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف استعمال کے لیے فراہم کیے گئے ناقص ڈرونز بھی ناکام ہو گئے ہیں۔ شکست خوردہ بھارت کے افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور پاکستان میں ڈرون حملوں کے عزائم خاک میں مل گئے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ دہشت گردوں کے لیے محفوظ ماحول بھارتی ریاستی دہشت گردی کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھی افغان طالبان کی مکمل حمایت اور بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان رجیم نے جون 2026 میں پاکستان میں ڈرون حملے کا دعویٰ کیا جسے پاک فضائیہ کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ افغان طالبان کی جانب سے حملے میں استعمال ہونے والے یہ یو اے ایس ڈرونز افغانستان میں تیار نہیں ہوئے بلکہ بھارت کے فراہم کردہ ہیں۔ افغانستان نے جون سے جولائی 2026 کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 9 ڈرون حملے کیے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے برآمد شدہ ان ڈرونز کی رینج 50 سے 270 کلومیٹر تک ہے اور یہ 5 کلو گرام تک کا وزن اٹھا سکتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دیے گئے یہ ڈرونز تکنیکی نوعیت کے لحاظ سے کم درجے کے ہیں جن کی صلاحیت بہت محدود ہے۔ پاکستان کے پاس ان ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مضبوط دفاعی نظام اور سافٹ کل و ہارڈ کل کی صلاحیت موجود ہے جس سے انہیں فضا میں ہی ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی طالبان رجیم کو دی گئی ٹیکنالوجی اور ڈرونز ناقص اور محدود صلاحیت کے ہیں جو پاکستان کے مربوط دفاعی نظام کے سامنے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ٹیکنالوجی اور بہترین حکمت عملی کے باعث افغان طالبان اور بھارت کی مشترکہ سازشیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ بھارت کی ٹیکنالوجی پہلے بھی معرکہ حق میں فرسودہ ثابت ہو چکی ہے۔











