اسلام آباد، 10اگست(اے پی پی):وزیراعظم یوتھ پروگرام اور او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) نے پاکستان سمیت او آئی سی رکن ممالک کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، انٹرپرینیورشپ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مواقع فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کی کامسٹیک سیکریٹریٹ اسلام آباد آمد کے موقع پر کوآرڈی نیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری سے ملاقات میں کیا گیا۔ دونوں اداروں کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات میں وزیراعظم پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے وژن کے تحت مشترکہ اقدامات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان کامسٹیک کے شریک چیئرمین جبکہ صدر پاکستان اس کے چیئرمین ہیں۔ دونوں ادارے سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی کے ذریعے اسلامی دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے لیے بھی مل کر کام کریں گے۔
اجلاس میں مشترکہ طور پر کازان یوتھ فورم کے انعقاد، ڈیجیٹل یوتھ پروگرام شروع کرنے، بالخصوص 500 نوجوان خواتین کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دینے اور وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ ہب کو او آئی سی رکن ممالک تک وسعت دینے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
او آئی سی ممالک کی نوجوان تنظیموں کو وزیراعظم یوتھ پروگرام سے منسلک کرنے پر بھی غور کیا گیا تاکہ مسلم دنیا کے نوجوانوں کو نیٹ ورکنگ، کاروباری مواقع، جدید مہارتوں، علمی تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے۔
رانا مشہود احمد خان نے سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے کامسٹیک کے پروگراموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں اداروں کا اشتراک پاکستان کے کامیاب یوتھ پروگراموں کو اسلامی دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ او آئی سی ممالک کی نوجوان آبادی ایک بڑی قوت ہے جسے تعلیم، سائنس، ڈیجیٹل مہارتوں، جدت اور انٹرپرینیورشپ کے مواقع فراہم کرکے معاشی و تکنیکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کامسٹیک کا اشتراک پاکستان کے تجربات اور نوجوانوں کے لیے کامیاب اقدامات کو او آئی سی کے وسیع پلیٹ فارم سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔
دونوں اداروں کی مجوزہ مشترکہ کمیٹی ترجیحی شعبوں کا تعین اور طے شدہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے طریقہ کار مرتب کرے گی۔











