مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امہ کی وحدت و اتحاد کا مظہر ،مدارس کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی خوش آئند ہے، طاہر محمود اشرفی

5

لاہور۔16اگست (اے پی پی):پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کا معاہدہ ہے ، یہ معاہدہ امہ کی وحدت و اتحاد کا مظہر ہے،مدارس کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی خوش آئند ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز یہاں ماڈل ٹائون میں متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کا معاہدہ ہے ،اگر نیٹو بن سکتا اور یورپی یونین اکٹھی ہو سکتی ہے تو اسلامی دنیا کیوں اکٹھی نہیں ہو سکتی،کوشش ہوگی کہ تمام اسلامی ممالک اس معاہدہ میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ مکہ مکرمہ مسلم امہ کی وحدت و اتحاد کا مظہر ہے ،اسے آگے بڑھنا چاہیے،معاہدہ کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ اسلامی دنیا کا ایک مضبوط اتحاد بنے گا، جو اسرائیل اور اس کے حریفوں کی سازشوں کو ناکام بنائے گا،مسلمانوں کوآج متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ایک ہیں اور پاکستان کا استحکام دفاع سلامتی ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے دنیا میں اپنا منفرد مقام پیدا کیا ہے ،ایران، سعودی عرب ، ترکیہ اور امریکہ سب ہی پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہوتے مذاکرات کا راستہ بہترین راستہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی مذہبی قوتیں ہوں یا سیاسی قوتیں، سب کو مل بیٹھنا چاہییے تاکہ ملک کے مسائل حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے پنجاب میں کافی حد تک کام ہو چکا ہے، اس حوالے سے ہماری صوبائی وزیر خواجہ سلمان کے ساتھ کئی نشستیں ہو چکی ہیں، مدارس کی رجسٹریشن پرہمیں کوئی اعتراض نہیں،جو پرانے نظام کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، ہمیں ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے22 ہزار مدارس جن کے نمائندہ یہاں موجود ہیں اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہمارے مدارس کے پندرہ بورڈز ہیں ،اگر کوئی قرآنی نظام کے ساتھ جانا چاہے تو اس کی مرضی ہے، بائیس ہزار مدارس کی چیریٹی کمیشن رجسٹریشن کرے تاکہ نیا نظام شروع نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کہ مدارس کے بینک اکائونٹس کھلنے چاہئیں تاکہ بیرونی ملک سے طلبہ کیلئے سہولت پیدا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر تحقیق کے ایک طبقہ کہتا تھا کہ مدارس دہشت گردی و انتہا پسندی سکھاتے ہیں ، ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ آج بھی اگر کسی کو یہ شبہ ہے تو وہ نشاندہی کرے ہم اس مدرسے کو خود تالہ لگائیں گے،یہ ہمارا 15 مدارس کے بورڈ کا متفقہ فیصلہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صوبوں میں مدارس کی رجسٹریشن کا میکانزم نہیں بن سکا،مرکز میں مدارس کی رجسٹریشن کا میکانزم ہے لیکن صوبوں میں قانون سازی ہونا باقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی خوش آئند ہے۔ اس مو قع پراتحاد مدارس عربیہ کے مرکزی رہنما مفتی زبیر فہیم،متحدہ مدارس کونسل کے مرکزی رہنما علامہ توقیرمفتی اور عبد اللطیف سمیت دیگر مدارس کے سر برا ہان نے بھی خطاب کیا۔