ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے ملک گیر اسکریننگ مہم، وزارتِ صحت کے ملازمین کی اسکریننگ لازمی

6

اسلام آباد، 18 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید  مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کے افسران اور ملازمین کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی اسکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت کے تمام ملازمین، وزیر سے آفس بوائے تک، کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ صحت کے ماتحت اداروں اور دیگر وفاقی وزارتوں کو بھی اپنے ملازمین کی اسکریننگ کے لیے خطوط ارسال کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی پروگرام کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا ہے، جہاں سرکاری سطح پر 17 اسکریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ نجی ہسپتالوں کے تعاون سے بھی اسکریننگ کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، حکومت نجی ہسپتالوں کو اسکریننگ کا سامان اور آلات فراہم کرے گی جبکہ ان کے انسانی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے عوام کو مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے اسکریننگ کٹس اور ضروری آلات کا انتظام کر لیا گیا ہے، جبکہ صوبے بھی بتدریج قومی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم داخلی و خارجی مقامات پر بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد کی بھی اسکریننگ کی جا رہی ہے، آئندہ دو سے تین ماہ میں پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسکریننگ کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی مردم شماری میں استعمال ہونے والے جدید آلات سے استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ تمام ڈیٹا ڈیجیٹل اور ریئل ٹائم بنیادوں پر ریکارڈ ہوگا۔ اسکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ہر فرد کی اسکریننگ کی معلومات مستقبل میں بھی دستیاب رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، تاہم ملک گیر اسکریننگ مکمل ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی اصل تعداد سامنے آئے گی۔ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش اور خطرناک بیماری ہے، بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ابتدائی تشخیص کی صورت میں اس کا مؤثر اور مکمل علاج ممکن ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو تین ماہ کی علاج کی دوا تقریباً 34 ہزار روپے مالیت کی مفت فراہم کر رہی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دوسرا کورس بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یوں ایک مریض کو تقریباً 68 ہزار روپے تک کی ادویات مفت فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسکریننگ ٹیسٹ بھی عوام کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے بھی آج ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کرائی، جس کا نتیجہ الحمدللہ منفی آیا۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ شناختی کارڈ کے ساتھ قریبی اسکریننگ سینٹر جائیں اور چند منٹ میں مفت ٹیسٹ کرائیں۔ والدین اپنے 12 سال سے زائد عمر کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی بھی اسکریننگ ضرور کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص فرد، خاندان اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ حکومت نے اسکریننگ اور علاج کی سہولت مفت فراہم کر دی ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قومی مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔