اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام سے تعلق رکھنے والے 217 پروبیشنری افسران پر مشتمل وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد بی آئی ایس پی کے وژن، ادارہ جاتی نظام، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور مستحق خاندانوں کے لیے جاری اقدامات سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے سماجی تحفظ کے شعبے میں کردار، خواتین کی خودمختاری، مالی شمولیت اور مستحق خاندانوں کی معاونت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا مقصد مستحق خاندانوں کو باعزت اور مؤثر سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت خواتین کو براہِ راست معاونت کی فراہمی سے انہیں مالی شمولیت اور سماجی تحفظ کے نظام میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی صرف مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کو تعلیم، غذائیت، مالی شمولیت اور روزگار کے مواقع کے ذریعے زندگی کے مختلف مراحل میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مستحقین کی عزتِ نفس، شفاف ادائیگیوں اور سہولت کو یقینی بنانا بی آئی ایس پی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل والٹس کے اجرا کو مالی شمولیت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مستحق خواتین کے لیے ادائیگیوں کا نظام مزید محفوظ، شفاف اور آسان ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی انٹرآپریبلٹی کے نظام کی جانب بھی پیش رفت کر رہا ہے، جس سے مستحقین کو مختلف مقامات پر پارٹنر بینکوں کے متعلقہ ایجنٹس کے ذریعے وظائف کی رقم وصول کرنے میں مزید سہولت حاصل ہوگی۔سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر ہنرمند پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستحق خاندانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ان کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں خود انحصاری کی جانب گامزن کرنے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری سماجی تحفظ کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم قومی ڈیٹا بیس ہے، جس سے مختلف ادارے مستحق خاندانوں کے لیے مؤثر پالیسی سازی اور پروگراموں کی منصوبہ بندی میں استفادہ کر رہے ہیں۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر/سی سی ٹی ڈاکٹر عاصم اعجاز نے وفد کو بی آئی ایس پی کے اہم پروگراموں، بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونما اور نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پروگرام کے نتیجے میں بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔دورے کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں پروبیشنری افسران نے بی آئی ایس پی کے ادارہ جاتی ڈھانچے، مستحقین کے انتخاب، ادائیگیوں کے نظام، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی پالیسی سمت کے حوالے سے مختلف سوالات کیے۔
دورے کے اختتام پر سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر پاس ڈاکٹر فیصل ظہور نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور بی آئی ایس پی کی کارکردگی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو سراہا۔











