اسلام آباد: 21 اگست ( اے پی پی): حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوگئے۔
اس تعاون کا مقصد پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو 2030ء تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا اور ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی امور اور پبلک پالیسی ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کے حوالے سے آج ایک اہم دن ہے۔ جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ ہماری نوجوان آبادی ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور آئی ٹی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھرپور کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر ہونے والی پیش رفت کا ثبوت ہے۔
گوگل کے پاکستان، فلپائن اور تھائی لینڈ کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا گوگل کے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ تعاون پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور نوجوان نسل کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت کے ہدف کی جانب بڑھنے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور گوگل کے ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے ایم او یو پر دستخط کیے۔ایم او یو کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس (Google Career Certificates) فراہم کرے گا۔ ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق زیادہ طلب والی تکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
گوگل پاکستان میں گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام (Google Career Certificates Program) کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا تاکہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔
گوگل پاکستان بھر کے طلبہ کو جدید اے آئی ٹولز (AI Tools) فراہم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا، جن میں گوگل اے آئی پلس (Google AI Plus) اور جیمینائی نوٹ بک (Gemini Notebook) تک ایک سال کی مفت رسائی بھی شامل ہے۔ اس سہولت کا مقصد طلبہ کو تعلیم اور تحقیق میں مدد دینا، ان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانا اور آئی ٹی برآمدات میں ان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔
دونوں فریقوں نے اسلام آباد میں ایک خصوصی اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس (AI Centre of Excellence) قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مرکز میں پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے معیار کے مطابق تربیت دی جائے گی۔
وزیراعظم کے ایف بی آر (Federal Board of Revenue) کی اصلاحات کے منصوبے کے تحت گوگل، ایف بی آر کو اے آئی (AI) کے استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کو جدید بنانے، حکومتی امور کو مزید مؤثر بنانے اور ایف بی آر کی ڈیجیٹل تبدیلی تیز کرنے میں معاونت فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بھی اے آئی (AI) کا استعمال کیا جائے گا، جس سے فصلوں کی نگرانی، پیداوار کا اندازہ لگانے اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو عالمی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانے میں بھی مدد فراہم کریں گے۔
ایم او یو کے تحت گوگل اور پاکستان مقامی ایپ ڈویلپرز (App Developers) اور گیمنگ اسٹوڈیوز (Gaming Studios) کی معاونت کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں فریق ڈیجیٹل پیمنٹس ایکو سسٹم (Digital Payments Ecosystem) کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل ٹریڈ (Digital Trade) کو فروغ دینے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیں گے۔
حکومت، گوگل اور اہم صنعتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس (Joint Task Force) بھی قائم کی جائے گی۔ یہ ٹاسک فورس آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مواقع کی نشاندہی کرے گی۔
ٹاسک فورس ہارڈویئر مینوفیکچرنگ (Hardware Manufacturing) اور آئی ٹی سروسز (IT Services) کے لیے سرمایہ کاری کے فریم ورک، عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور انسانی وسائل کی اپ اسکلنگ (Upskilling) سمیت دیگر امور پر کام کرے گی۔











