ایف ایم ڈی کے خاتمے، ڈی اے پی کی دستیابی اور آلو کی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور پنجاب میں مربوط اقدامات پر اتفاق

6

اسلام آباد، 24 اگست  ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پنجاب کے وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین کرمانی سے ملاقات کی، جس میں فُٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (FMD)، ڈی اے پی کھاد کی دستیابی اور آلو کی پیداوار و برآمدات سمیت زراعت اور لائیو اسٹاک سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور متعلقہ محکموں کے ڈائریکٹر جنرلز نے بھی شرکت کی اور بیماریوں پر قابو پانے، کھاد کی دستیابی اور فصلوں کے انتظام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تاکہ کسانوں اور لائیو اسٹاک سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

اجلاس میں وفاقی اور پنجاب حکومت نے پنجاب میں موٹروے کوریڈور کے ساتھ ایف ایم ڈی فری زون قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس اقدام کا مقصد فُٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز پر مؤثر طور پر قابو پانا اور بالآخر صوبے سے اس بیماری کا خاتمہ کرتے ہوئے پاکستان کو ایف ایم ڈی فری ملک بنانے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

اس اقدام کے تحت بیماریوں کی روک تھام، ویکسی نیشن، مویشیوں کی نقل و حرکت کے انتظام اور اہم لائیو اسٹاک روٹس پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مقررہ زون کو کامیاب بنانے اور مستقبل میں بیماری سے پاک علاقوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بیماریوں کی نگرانی کا ایک جامع نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے لائیو اسٹاک میں بیماریوں کے پھیلاؤ اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ اس نظام سے بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے پر نشاندہی، بروقت حفاظتی و تدارکی اقدامات اور بیماریوں سے متعلق رپورٹنگ اور ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ڈی اے پی کھاد کی دستیابی کے حوالے سے اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسانوں کے لیے ڈی اے پی کی وافر اور بروقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، ممکنہ قلت کا بروقت تدارک کرنے اور فصلوں کے سیزن کے دوران کسانوں کو کھاد کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں آلو کے شعبے، بالخصوص پیداوار کی منصوبہ بندی، مارکیٹ تک رسائی اور برآمدات کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پنجاب کے وزیر زراعت سید محمد عاشق حسین کرمانی کی تجویز پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس امر پر زور دیا کہ رواں سیزن میں آلو کی پیداوار اور مارکیٹنگ کو نئے بین الاقوامی برآمدی منڈیوں کی تلاش کے ذریعے بہتر انداز میں منظم کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آلو کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش سے پاکستانی آلو کی طلب میں پائیدار اضافہ، پیداوار کے عروج کے دوران مقامی مارکیٹ پر دباؤ میں کمی اور کسانوں کو بہتر منافع کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نئی ممکنہ منڈیوں کی نشاندہی، مارکیٹ انٹیلی جنس کے فروغ اور برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کسانوں کو درپیش حقیقی مسائل کے حل اور پاکستان کے زرعی و لائیو اسٹاک شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے پاک لائیو اسٹاک، زرعی مداخل کی بروقت دستیابی اور برآمدی منڈیوں میں تنوع ایک مضبوط، مسابقتی اور پائیدار زرعی معیشت کے بنیادی اجزا ہیں۔

 انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان ترجیحات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور کسانوں، لائیو اسٹاک مالکان اور قومی معیشت کے مفاد میں وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنائی جائے گی۔