پاکستان کا یوکرین میں فوری جنگ بندی، سفارت کاری کی بحالی اور بامعنی مذاکرات پر زور

6

اقوام متحدہ، 24 اگست  (اے پی پی): پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ کے تناظر میں فوری اور مکمل جنگ بندی، سفارت کاری کی جانب واپسی اور سنجیدہ و منظم مذاکرات کی بحالی کی ناگزیر ضرورت کو برقرار رکھا جائے۔

یوکرین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تنازع کے باعث شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی و خوراک کی اہم تنصیبات پر حالیہ حملوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حملے پہلے ہی نازک عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں اور ان کے اثرات تنازع کے علاقے سے کہیں دور تک محسوس ہوتے ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچے اور انسانی امدادی کارکنوں کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داری ہے، جس کی تمام فریقین کو پاسداری کرنی چاہیے۔

فروری 2025 میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کے لیے پاکستان کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب نے یوکرین کے حوالے سے سنجیدہ اور منظم مذاکرات، سفارت کاری اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں موجود متعدد وفود سمیت پاکستان بھی بارہا اس امر پر زور دیتا رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کیے جائیں، جس کے لیے عسکری حل کی جستجو سے گریز ضروری ہے۔

پاکستان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں اور تمام فریقین کے جائز سلامتی کے مفادات سے ہم آہنگ باہمی طور پر قابل قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کے حصول کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔

اختتامی کلمات میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان تنازع کے منصفانہ، جامع اور پُرامن حل کے حصول کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔