اسلام آباد، 25 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے حکومتِ خیبر پختونخوا کے تعاون سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی تقریبِ دستخط سے خطاب کرتے ہوئے اسے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری اور پاکستان ریلوے کی جدید کاری کی جانب ایک تاریخی پیش ر فت قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی رہنمائی میں ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ یکساں بنیادوں پر انفراسٹرکچر، مسافر سہولیات اور سیفٹی کے لیے مل کر کام کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا میں 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کی اپ گریڈیشن، پشاور کینٹ اور سٹی سمیت اہم اسٹیشنز کی بحالی اور کوہاٹ سے خرلاچی تک 192 کلومیٹر نئی اسٹریٹجک ریلوے لائن شامل ہے جو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دے گی۔
وزیرِ ریلوے نے ریلوے سیفٹی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ پنجاب حکومت نے 177 غیر محفوظ کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے 9.7 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی موجود 81 غیر محفوظ کراسنگز کو مرحلہ وار باقاعدہ بنایا جائے گا تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ چاروں صوبوں کو جوڑنے والی قومی یکجہتی کی علامت ہے، اور وفاق و صوبوں کی یہ مشترکہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک جدید، محفوظ اور مؤثر ریلوے نظام کی بنیاد ثابت ہوگی۔











