سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کی پی ایچ اے ایف اور ایف جی ای ایچ اے کے زیرانتظام طویل عرصے سے زیر التواء رہائشی منصوبوں کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت

5

اسلام آباد،25اگست  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (پی ایچ اے ایف) اور وفاقی حکومت ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے زیرانتظام طویل عرصے سے زیر التواء رہائشی منصوبوں کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی کا اجلاس منگل کو سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پی ایچ اے-ایف اور ایف جی ای ایچ اے کے مختلف ہاؤسنگ منصوبوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو پی ایچ اے ایف آفیسرز ریزیڈینشیا کری روڈ منصوبے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پانی کی فراہمی، بارشی پانی کی نکاسی، سٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر پلاننگ ایم عمیر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کے رسائی راستے کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ رسائی سڑک کی تعمیر تین ماہ کے اندر مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ایف جی ای ایچ اے کی گرین انکلیو ون اور سکائی گارڈنز، سابق گرین انکلیو ٹو، ہائوسنگ سکیموں سے متعلق زیر التواء انکوائریز اور مقدمات پر بھی بریفنگ دی گئی۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ان ہائوسنگ سکیموں سے متعلق انکوائریز 2018ء سے متعلقہ قانونی فریم ورک اور عدالتی ہدایات کے تحت جاری ہیں۔ مخصوص اراضی کی منتقلی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے نیب نے بتایا کہ کلیئر ہونے والے مواضعات کی انکوائری مکمل ہونے پر این او سیز جاری کیے گئے۔ایف جی ای ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ شاملات کی اراضی نجی افراد کو منتقل نہیں کی جاسکتی جبکہ موضع کٹھار اور موضع مانگل میں ترقیاتی اجازت ناموں سے متعلق بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر کمیٹی نے گریڈ 20 کے سینیٹ افسر کو طویل عرصے سے الاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہ کا قبضہ نہ ملنے کا سخت نوٹس لیا۔کمیٹی نے وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس اور اسٹیٹ آفس کو ہدایت کی کہ متعلقہ سرکاری رہائش گاہ 24 گھنٹے کے اندر خالی کراکے افسر کے حوالے کی جائے اور اس حوالے سے جامع تعمیلی رپورٹ پیش کی جائے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کے تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں ایک عوامی نوعیت کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری ہائوسنگ کو معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی جس پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے یقین دہانی کرائی کہ مسئلہ جنوری 2027ء تک مکمل طور پر حل کردیا جائے گا۔کمیٹی نے عوامی فلاح کے منصوبوں کو تیز کرنے اور موثر انتظامی اقدامات پر سیکرٹری ہاؤسنگ اور ان کی انتظامی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔اجلاس میں سینیٹرز عبدالشکور خان، سیف اللہ ابڑو، خالدہ عتیب، حسینہ بانو، نسیمہ احسان اور ہدایت اللہ خان سمیت سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس، متعلقہ حکام اور نیب کے نمائندے شریک ہوئے۔