پاکستان کا سلامتی کونسل پر تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور

4

اقوام متحدہ، 25 اگست ( اے پی پی):پاکستان نے دنیا بھر میں تنازعات اور غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور پیشگی اقدامات پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام ’’جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی محرکات میں تنازعات اور تشدد کو نمایاں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا؟کہ گزشتہ برس 266 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں۔ آج شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار 70 فیصد افراد کمزور یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ آگے بڑھنے کا راستہ اصول و ضوابط کے فقدان میں نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون پر مؤثر عمل درآمد میں مضمر ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بھوک اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینا کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ ہو۔

غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی سمیت مختلف تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے اس امر پر زور دیا کہ بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال کس طرح جاری علاقائی تشدد سے براہِ راست منسلک ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہیں بھی ان ذمہ داریوں کی عدم پاسداری اتنی واضح نہیں جتنی غزہ میں نظر آتی ہے۔ خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات سے محرومی، انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیاں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینی عوام کو ناقابلِ برداشت مصائب سے دوچار کر دیا ہے۔

مستقل مندوب نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ تنازعات اور غذائی قلت دنیا بھر میں معاشی خلل کو بڑھاوا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک پر غیر متناسب بوجھ پڑتا ہے، جو پہلے ہی مالی مشکلات اور خوراک و توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان نے عالمی غذائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے جامع اور اصولی طرزِ عمل اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے عمل کے خلاف جواب دہی کو مضبوط کیا جائے، انسانی امداد کو سیاسی یا فوجی مفادات سے مشروط نہ کیا جائے اور پیشگی اقدامات پر مبنی مؤثر سفارتی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انتباہات کا کوئی فائدہ نہیں اگر عالمی برادری اس وقت حرکت میں آئے جب بھوک قحط میں تبدیل ہو چکی ہو۔ سیکرٹری جنرل، عالمی خوراک پروگرام ، اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم اور دیگر متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کی قابلِ اعتماد رپورٹس اور جائزوں کو بروقت توجہ اور پیشگی اقدامات کی بنیاد بننا چاہیے۔

مستقل مندوب نے زور دیا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی، اور پائیدار اور مثبت تبدیلی کے لیے تنازعات کے سفارت کاری، مکالمے اور پرامن تصفیے کے ذریعے حل کے عزم کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امن کے بغیر دیرپا غذائی تحفظ ممکن نہیں۔ لہٰذا، اس کونسل کی ذمہ داری محض بھوک کے نتائج سے نمٹنا نہیں بلکہ ان تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنا بھی ہے جو بھوک اور غذائی بحران کو جنم دیتے ہیں۔