وزیراعظم  شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطحی اجلاس منعقد

7

لاہور ،29 اگست ( اے پی پی): وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمنٹل کارروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی خصوصی ہدایت کی اور بلا امتیاز فوجداری کارروائی کا حکم دیا۔

معطل ہونے والوں میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم نے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی۔ وزیرِ اعظم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینے کی منظوری دی۔ وزیرِ اعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے سی ای او- این آئی ایچ (NIH) ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی بھی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت کی۔ رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویب سائیٹ پر آویزاں کر دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے۔ بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔ واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ غفلت سے کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو۔

اجلاس کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی اور تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔ پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا۔ واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔ واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے۔ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا۔ ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی جان بچائی۔

آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا۔ صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں لیے گئے۔ وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا۔ نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی۔ ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا اور تحقیقات کو مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔