پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے، آئندہ سال ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ

3

اسلام آباد، 2 ستمبر (اے پی پی): ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے جس کے دوران وہ آئندہ سال ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

بدھ کو پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے مستقل ثالثی عدالتِ کے فیصلے میں سامنے آنے والے ‘‘واضح اور مستند اعلانات’’  کا خیرمقدم کیا ہے جس میں اس بات کی توثیق کی گئی ہے کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سفارتی اور قانونی راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ نئی دہلی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کی جانب واپس آئے۔

 ترجمان نے کہا کہ عدالتِ کا متفقہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی حرمت اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی توثیق ہے، مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ سندھ طاس کے پانی سے متعلق اختلافات کو سندھ طاس معاہدے کے دائرہ کار کے اندر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہی حل کیا جانا چاہیے۔

کشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف فوجداری مقدمے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی خواہشات پر مضبوطی سے قائم ہے، ہم متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اس معاملے کو پوری طرح اجاگر کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بشکیک میں قیادت کی ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ میں پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے داخلی اور خارجی دونوں پہلو ہیں۔ داخلی محاذ پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ خارجی پہلو میں افغانستان میں موجود عناصر بشمول عبوری طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کو فراہم کی جانے والی معاونت شامل ہے جبکہ بیرونی خطے کے عناصر بالخصوص بھارت، کی جانب سے بھی دہشت گردی کی حمایت اور معاونت کی جارہی ہے جس کے بارے میں پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔