وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کی اے ڈی بی کے نائب صدر یانگ سے ملاقات؛ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن اور ریلوے اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال

5

اسلام آباد، 03 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نائب صدر یانگ نے وزارتِ ریلوے میں ملاقات کی جس میں کراچی تا روہڑی ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن، فنانسنگ، ریلوے اصلاحات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ ایم ایل ون حکومتِ پاکستان کا قومی ترجیحی منصوبہ ہے اور کراچی تا روہڑی سیکشن کا سنگِ بنیاد رواں مالی سال میں رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سیکشن کی اپ گریڈیشن پر تقریباً 2.5 ارب امریکی ڈالر لاگت آئے گی اور منصوبے کو تین سال کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 183 کلومیٹر طویل نوابشاہ تا روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا۔

 وفاقی وزیر نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون پاکستان ریلوے کی شہ رگ ہے اور اس کی اپ گریڈیشن سے کراچی تا لاہور سفر کے دورانیے میں تقریباً 5 گھنٹے کی نمایاں کمی آئے گی جبکہ ٹرینوں کی رفتار، سفری سہولیات اور آپریشنل کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے مزید کہا کہ ریلوے کی مالی پائیداری، گورننس اور آمدن میں اضافے کے لیے اپ گریڈیشن، آؤٹ سورسنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے تاکہ ریلوے سروسز کو مزید شفاف اور مسافر دوست بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسافر ٹرانسپورٹ کے ساتھ فریٹ آپریشنز کو وسعت دینا ہماری ترجیح ہے کیونکہ روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ریلوے کے ذریعے مال برداری زیادہ محفوظ اور معاشی طور پر موثر ہے۔

 وفاقی وزیر نے روہڑی تا پشاور ایم ایل ون کے دیگر حصوں کی فنانسنگ کے لیے اے ڈی بی سمیت دیگر عالمی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر اے ڈی بی کے نائب صدر یانگ نے پاکستان ریلوے میں جاری اصلاحاتی اقدامات اور وفاقی وزیرِ ریلوے کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے ریلوے کے نظام کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔