اسلام آباد ،80 ستمبر ( اے پی پی): وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے حوالے سے مشاورت ہے۔
وزیراعظم نے بجٹ سازی کے عمل کے دوران کاروباری برادری کی جانب سے پیش کردہ قیمتی تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی متعدد تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور Ease of Doing Business کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے بھی اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے حال ہی میں قائم کیے گئے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی کارکردگی اور دائرۂ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فورم مہیا کیا گیا ہے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری شعبے پر غیر ضروری ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کے لیے ریگولیٹری گِلّوٹین پر کام جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد قواعد و ضوابط کو آسان بنانا، کمپلائنس لاگت کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہل بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے ایک بڑا کام مکمل کر لیا گیا ہے. وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 800 ارب روپے اکٹھے کئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت ملک کے میکرو اکنامک حالات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری لانے کے لئے ہمیں مزید محنت کرنی ہے تاکہ معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افراد فراہم کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔
وفد کو ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور کاروبار، تجارت اور صنعت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وفد کو بتایا گیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی لائی گئی ہے اور بندرگاہوں کی آپریشنل استعداد بہتر بنائی گئی ہے۔کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا۔ اسی طرح پاکستان ریلوے کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل مزید تیز ہو سکے گی۔
وفد کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات سے ملک کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وفد کو مزید بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
وفد کو بتایا گیا کہ ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ اور ان کاروباروں کے ملک کی برآمدی شعبے میں شمولیت کے لئے ہر ممکن اقدامات لئے جا رہے ہیں اور ایس ایم ایز کی فنانسنگ کے حوالےسے بھی ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفد کے اراکین نے اپنے اپنے کاروبار اور صنعت کے شعبوں کے حوالےسے مسائل سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔











