پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے، سید یوسف رضا گیلانی

5

اسلام آباد،80ستمبر  (اے پی پی):قائم مقام  صدر  سید یوسف رضا گیلانی نے   کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے، پاکستان امن چاہتا ہے، امن کے لیے کھڑا ہے اور خطے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مضبوط دفاع کا مقصد جنگ کو فروغ دینا نہیں بلکہ امن، خود مختاری، علاقائی استحکام اور اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ’’احترام انسانیت، دفاع پاکستان اور پیغام پاکستان کا فروغ‘‘  کے عنوان سے بین الاقوامی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے   قائم مقام صدر  سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ”احترام انسانیت، دفاع پاکستان اور پیغام پاکستان کا فروغ “ دراصل ہمارے قومی تشخص، ہماری دینی اقدار اور ہماری ریاستی ذمہ داریوں کے تین اہم پہلوؤں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے،انہوں نے کہا کہ احترام انسانیت ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے،  اسلام نے انسان کی عزت، جان  و  مال اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے،  رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں مختلف مذاہب اور طبقات کے ساتھ عدل، رواداری ، حسن سلوک اور پر امن بقائے باہمی کا عملی نمونہ فراہم کرتی ہے، اس حوالے سے میثاق مدینہ ہمارے لیے ایک روشن تاریخی مثال ہے، ریاست مدینہ میں مختلف مذہبی اور قبائلی طبقات کو ایک اجتماعی نظم میں شامل کیا گیا اور ان کے حقوق ، ذمہ داریوں اور باہمی تحفظ کے اصول طے کیے گئے ، یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف عقائد اور شناختوں کے حامل افراد کو عزت، تحفظ اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو، یہی وہ اصول ہیں جو پاکستان کے تصور اور آئینی ڈھانچے میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں، پاکستان ایک کثیر المذاہب معاشرہ ہے اور ہمارے آئین نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ، مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کیا ہے۔

قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی  نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جہاں ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہو۔ہماری اقلیتی برادریاں پاکستان کی تعمیر وترقی میں ہمیشہ شریک رہی ہیں۔ تعلیم ، صحت ، دفاع ، سیاست، معیشت ، سماجی خدمت اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات ہمارے قومی اثاثے کا حصہ ہیں۔ اس لیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ محض ایک آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری دینی ، اخلاقی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔اسی قومی ذمہ داری کو مضبوط بنانے میں پارلیمان کا کردار نہایت اہم ہے۔ سینیٹ وفاق کی علامت اور تمام صوبوں کی نمائندگی کرنے والا ایوان ہے، اس کا کردار قانون سازی کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی ، رواداری ، مکالمے اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینا  ہے۔اسی جذبے کے تحت سینیٹ مائنارٹی کاکس کا قیام ایک اہم پارلیمانی اقدام ہے۔ اس کا مقصد اقلیتی برادریوں کے مسائل اور حقوق کو موثر انداز میں اجاگر کرنا، ان کی پارلیمانی شرکت کو مضبوط بنانا اور قومی فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی آواز کو مزید موثر بنانا ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان کا ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، مسلک یا طبقے سے ہو، خود کو ریاست اور معاشرے کا برابر کا حصہ محسوس کرے۔  چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور چیئرمین انٹرفیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور پیغام پاکستان کا فروغ وقت کی اشد ضرورت ہے، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے اور پوری دنیا میں قیام امن کیلئے پاکستان کا کردار سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کا داعی بن کر ابھرا ہے جس پر ہم اللّہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ     پوری قوم اور بین المذاہب راہنما پاکستان کی سلامتی و تحفظ کیلئے اپنی بہادر مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔