قائمہ کمیٹی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اجلاس، بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بل 2026 پر تفصیلی غور

8

کوئٹہ، 09 ستمبر (اے پی پی):بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قائمہ کمیٹی برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین کی منظوری سے مولانا نوراللہ کو قائمہ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد مولانا نوراللہ نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ’’بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بل، 2026 (بل نمبر 20 آف 2026)‘‘ پر تفصیلی غور و خوض اور بحث کی گئی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین مولانا ہدایت الرحمن اور شاہدہ رؤف نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے متعلقہ حکام اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے نے شرکت کی۔مذکورہ بل کا بنیادی مقصد صوبہ بلوچستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور گندے پانی کی فراہمی، انتظام اور ان کے موثر ضابطہ کاری کے لیے جامع قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ بل میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے فرائض و ذمہ داریوں کے تعین، زیر زمین پانی کے اخراج کو منظم کرنے اور آبی ذخائر کے تحفظ، صوبائی گرانڈ واٹر ریگولیٹری بورڈ اور ضلعی واٹر سپلائی و سینیٹیشن گروپس کے قیام، دیہی و شہری پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی موثر دیکھ بھال و آپریشن، گندے پانی کی صفائی اور صاف شدہ پانی کے محفوظ دوبارہ استعمال سمیت پانی کے نرخ، بلنگ اور وصولی کے نظام کو منظم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے اس امر پر زور دیا کہ قانون کے تحت صرف عوام کو جوابدہ نہ بنایا جائے بلکہ متعلقہ سرکاری افسران اور اہلکاروں کی ذمہ داریاں بھی واضح طور پر متعین کی جائیں۔ اراکین نے تجویز دی کہ اگر کوئی افسر یا اہلکار قانون میں متعین فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف بھی موثر کارروائی اور سزا کا واضح طریقہ کار قانون کا حصہ ہونا چاہیے، جس میں بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی کی شق شامل کی جائے۔اراکین نے کہا کہ منتخب نمائندگان عوام کی نمائندگی کے لیے ایوان اور کمیٹیوں میں بیٹھتے ہیں اور عوامی مفاد کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، تاہم اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے موثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔اراکین نے کہا کہ گھروں اور نجی مقامات پر قائم نجی بورز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو بھی منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتی آبی ذخائر کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔کمیٹی کے چیئرمین مولانا نوراللہ نے بل پر اپنا ووٹ اس مقف کے ساتھ مخالفت میں دیا کہ ان کے نزدیک زیرِ بحث بل عوامی مفاد کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کا مقصد عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ہے۔مولانا ہدایت الرحمن نے بھی کہا کہ عوامی نمائندگان کا بنیادی فرض عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کوئٹہ  واسا سمیت متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اداروں میں عوامی وسائل کے مثر استعمال اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔اجلاس کے دوران اراکین نے اس امر پر زور دیا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت سے متعلق قانون سازی میں عوامی مفاد، شفافیت، اداروں کی جوابدہی اور پانی کے قدرتی وسائل کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔