ہانگ کانگ، 10 ستمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا پُرعزم حامی ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے اور ملک کو علاقائی روابط کے ایک اہم مرکز کے طور پر اُبھار رہی ہے۔
11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان وسطی ایشیا اور مغربی چین کو گرم پانیوں اور بندرگاہوں سے منسلک کر رہا ہے۔ بی آر آئی محض اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ ممالک اور اقوام کو قریب لانے کا مؤثر پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون اب تجارتی راستوں سے آگے بڑھ کر مربوط ویلیو چینز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل جدت، پائیداری اور ہنرمند روزگار کو تجارتی ڈھانچے کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان مغربی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بن رہا ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ ریلوے، سڑکوں اور ٹرانزٹ ٹریڈ روابط کی توسیع پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے مختصر اور مؤثر راستہ بنا رہی ہے۔ بندرگاہی اصلاحات، ڈیجیٹل کسٹمز اور جدید لاجسٹکس سے تجارتی وقت اور لاگت کم کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان ایک اُبھرتے ہوئے ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر سرمایہ کاروں کو وسیع علاقائی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی برآمدات میں اضافے، صنعتی جدیدکاری اور سرمایہ کاری کی سہولت پر مبنی ہے۔ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، علم پر مبنی صنعتوں اور خدمات کو عالمی ویلیو چینز سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان زراعت، اہم معدنیات اور انسانی وسائل کے وسیع امکانات کا حامل ملک ہے۔ جدید بیج، موسمیاتی اسمارٹ زراعت اور بہتر سپلائی چینز سے غذائی تحفظ اور برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ تانبے، کوئلے اور اہم معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
جام کمال خان نے سرمایہ کاروں کو شفاف اور کاروبار دوست نظام کے تحت پاکستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت کی صلاحیتوں کا ثبوت سالانہ ترسیلاتِ زر ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ بی آر آئی شراکت دار سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان مذہبی، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے بے مثال مواقع بھی رکھتا ہے۔











