اڑان پاکستان  کے قومی اقتصادی مشن کے اہداف کا جائزہ ، وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت اہم اجلاس

5

اسلام آباد، 10 ستمبر(اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں قومی اقتصادی مشنز کے تحت معاشی ترقی کے اہداف، ٹیکس اصلاحات، وسائل میں اضافے اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ مشن ٹو اڑان پاکستان کے گیارہ قومی اقتصادی مشنز میں شامل ہے، جسے قومی اقتصادی کونسل نے منظور کیا ہے۔ مشن ٹو پورے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے اور دیگر قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ قومی اقتصادی مشنز کا مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے، اڑان پاکستان کے اہداف قابل حصول ہیں اور ان کے لیے ہر شعبے میں تبدیلی اور جدت کو فروغ دینا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے لیے نئے وسائل پیدا کرنا اور موجودہ وسائل کو مؤثر انداز میں متحرک کرنا ناگزیر ہے۔ وسائل کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی، جبکہ ٹیکس کی شرح کو کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا معاشی پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی ٹیکس وصولی کی کارکردگی میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹیکس کا بوجھ کم اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیز رفتار ترقی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، برآمدات میں اضافہ اہم قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزارت منصوبہ بندی وزیراعظم کی رہنمائی میں جامع قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کرکے متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے گی تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے اور مختلف شعبوں میں برآمدی استعداد کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا۔