وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت پی پی پی منصوبوں پر اہم اجلاس ، مختلف شعبوں کے منصوبوں کا جائزہ

4

اسلام آباد، 10 ستمبر)اے پی پی): وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں ریلوے، شاہراہوں، توانائی، شہری انفراسٹرکچر اور ہوائی اڈوں سمیت مختلف شعبوں کے مجوزہ پی پی پی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کو قومی انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کے منظم مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری فنڈ یا مؤثر سرمایہ کاری نظام تشکیل دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کے ساتھ قابل اعتماد، آسان اور محفوظ مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے، جبکہ مجوزہ سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے وہ براہ راست کاروبار قائم کیے بغیر قومی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بچت کو ریلوے، شاہراہوں اور دیگر قومی ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مجوزہ سرمایہ کاری نظام کا خیرمقدم کیا۔

اجلاس میں ایم ایل ون منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ ایم ایل ون کے لیے کثیرالجہتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ذریعے مالی وسائل کا حصول حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی تا روہڑی سیکشن پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ پیش رفت جاری ہے۔

احد چیمہ نے ہدایت کی کہ ایم ایل ون کے باقی سیکشنز کے لیے پی پی پی ماڈل کو فی الحال متبادل آپشن کے طور پر رکھا جائے جبکہ لاہور تا راولپنڈی ریلوے سیکشن کے ممکنہ پی پی پی ماڈل کی فزیبلٹی اسٹڈی کرائی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سیکشن سے سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی کے امکانات ہیں۔

اجلاس میں کھاریاں تا راولپنڈی موٹروے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم آفس سے منظوری حاصل ہوچکی ہے، اس لیے اس کی تکنیکی اور ابتدائی تیاریوں پر فوری پیش رفت کی جائے اور آئندہ تین ماہ کے اندر واضح اور عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے اے ایم آئی اسمارٹ میٹرنگ منصوبے کو پی پی پی ماڈل کے تحت آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدید اسمارٹ میٹرنگ نظام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آپریشنل اور کمرشل کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ہوگا اور ڈسکوز کی مجوزہ نجکاری کے عمل میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اجلاس میں گندھارا ثقافت سے متعلق منصوبوں، کیپیٹل ہسپتال کی توسیع، سی ڈی اے اور این ایچ اے کے دیگر مجوزہ پی پی پی منصوبوں سمیت دو ہزار ستائیس اور دو ہزار اٹھائیس میں مارکیٹ میں لانے کے لیے مجوزہ ہوائی اڈوں سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

احد چیمہ نے کہا کہ قابل عمل پی پی پی منصوبوں کو محض تجویز کی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ پی پی پی منصوبوں کی پائپ لائن کا اعلیٰ سطح پر باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور مکمل تیاری کے حامل اور تجارتی لحاظ سے قابل عمل منصوبے وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی ماڈل کو قومی ترقی کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے اور ملکی، بین الاقوامی اور اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے قابل عمل پی پی پی منصوبوں کی ترجیحی پائپ لائن تیار کی جائے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، سیکرٹری نجکاری، سی ای او پی تھری اے اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔