نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کیا جائے ،تجارت میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں، محمد شہباز شریف

5

اسلام آباد،10 ستمبر(اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کیا جائے اور تجارت کے راستے میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں،  وزیراعظم  نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف، نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو    ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کو تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، رواں مالی سال کے اختتام تک گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،رواں مالی سال کے اختتام تک مجاز اقتصادی آپریٹرز  کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا ہدف مقررکیاگیاہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے،تجارت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، کاروباری لاگت میں کمی اور برآمدات کے فروغ کے لیے موثر اقدامات لئے جائیں، تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز کا موثر حصہ بنانے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے،زیادہ حجم کی حامل بندرگاہوں پر تمام متعلقہ ادارے کاروباری برادری کو ایک ہی مقام پر سہولیات فراہم کریں، مختلف اداروں کی مشترکہ انسپیکشن اور مشترکہ پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دیا جائے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کیا جائے اور تجارت کے راستے میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے موثر اقدامات لیے جائیں، براہ راست شپنگ سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل مزید آسان اور تیز ہوگی۔

وزیراعظم نے قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی بھی  ہدایت کی۔قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس میں کارگو ڈویل ٹائم،، کسٹمز کلیئرنس،  لاجسٹکس، شپ کلیئرنس ٹائم، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور پری کلیئرنس سمیت دیگر اہم اشاریوں کی پیمائش کی جائے گی۔انہوں نے تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات لینے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ ایس ایم ایز کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کی میپنگ کے ذریعے انہیں درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے،تجارت میں سہولت کے لیے  رسک مینجمنٹ نظام کو مزید موثر بنایا جائے، کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کنٹرولز کو پری ارائیول سے پوسٹ ریلیز مرحلے تک وسعت دی جائے،صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے۔

 انہوں نے کہا کہ رسک مینجمنٹ کو مزید موثر بنانے اور تجارتی عمل تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کیا جائے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کی بھی منظوری دی اور ہدایت دی کہ یہ ورکنگ گروپ غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ایک مہینے کے اندر روڈ میپ پیش کرے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، جنید انوار چوہدری، مشیر وزیر اعظم ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے ممبران نے شرکت کی۔