ٹوکیو/اسلام آباد ،16 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات (ٹیلی کمیونیکیشن) شزا فاطمہ خواجہ نے جاپان اور پاکستان کے درمیان مزید گہرے ٹیکنالوجی کے اشتراکِ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور نوجوان طاقت جاپانی صنعت کے لیے بہترین شراکت دار ثابت ہو سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاپان ایکسٹرنل ٹریڈ آرگنائزیشن (جیٹرو) کے زیرِ اہتمام اور وزارتِ آئی ٹی کے ذیلی ادارے ”پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ” (پی ایس ای بی) کے تعاون سے ٹوکیو میں منعقدہ ”پاکستان بزنس سیمینار” سے بذریعہ انٹرنیٹ (ورچوئل) کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کے خطاب کا موضوع “پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور جاپان کے ساتھ شراکت داری کے مواقع” تھا۔
سیمینار میں دونوں ممالک کے سینئر سرکاری حکام، کاروباری شخصیات، ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر جاپان میں پاکستان کے سفیر عبدالحمید، پاکستان میں جاپان کے سفیر شوئیچی اکاماتسو، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) فیصل جیدی، جیٹرو کی ایگزیکٹو نائب صدر اکیکو اوکومورا اور جاپان کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ناریتوشی تاکایاما بھی موجود تھے۔
پاکستان اور جاپان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری کے نئے باب کا تعین ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجیکل تعاون سے ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ڈیجیٹل ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وسیع ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) میں 16 کروڑ 10 لاکھ سے زائد براڈ بینڈ صارفین، 17 ہزار 200 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک نیٹ ورک اور فائیو جی (5G) سمیت اگلی نسل کی کنیکٹیویٹی کے لیے رواں سال 750 میگا ہرٹز سے زائد سپیکٹرم کا اجراء شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025-26ء میں پاکستان کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) برآمدات 4.6 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ قومی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس – اے آئی) پالیسی کے تحت 2027ء تک 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جاپان عالمی معیار کی جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی مہارت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کی 68 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی فارغ التحصیل (گریجویٹس) اور سافٹ ویئر انجینئرز ورک فورس کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے مراکِز کے قیام اور مشترکہ مصنوعات کی تیاری کی دعوت دی۔
خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور ترجیحی تعاون فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔











