خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا بچوں میں غذائیت کی کمی دور کرنے ، زچہ و بچہ کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور

4

کراچی ،16ستمبر  (اے پی پی):خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان میں بھوک کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زچہ و بچہ کی صحت، ماں کا دودھ پلانے، حفاظتی ٹیکہ جات، بچپن کی مناسب نشوونما کے فروغ اور بچوں میں غذائیت کی کمی دور کرنے  کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیاہے۔

 خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے یہ بات اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) پاکستان کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو بھی شریک تھے۔

خاتون اول کو ڈبلیو ایف پی کی جانب سے غذائیت، غذائی تحفظ، سکولوں میں کھانے کی فراہمی اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں جاری کام بالخصوص بینظیر نشوونما پروگرام  کے تحت تعاون کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وفد نے بتایا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 30 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے مستفید ہوئے ہیں جن میں سندھ کے17 لاکھ سے زائد مستحقین شامل ہیں۔

وفد نے ڈبلیو ایف پی کے 4 کروڑ ڈالرکے سکول میلز پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا جس کے تحت ملیر اور کیماڑی کے 614 سرکاری سکولوں میں ایک لاکھ بچوں کو کھانا فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شدید غذائی قلت، غذائی اجزاء کی کمی، صاف پانی و صفائی اور موسمیاتی لچک سے متعلق اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

خاتون اول نے بینظیر نشوونما پروگرام کی اہمیت اور پاکستان میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں کے دائرہ کار بالخصوص پائیدار ترقی کے ہدف 2 (ایس ڈی جی 2)بھوک کےخاتمہ (زیرو ہنگر) کے حصول کے لیے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زچہ و بچہ کی صحت، ماں کا دودھ پلانے، حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت، ابتدائی بچپن کی نشوونما، بچوں کی شرح اموات میں کمی اور بچوں میں قد کی کم نشوونما کے حوالے سے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔

خاتون اول نے بچوں کے لیے قابل رسائی طبی سہولیات بالخصوص چائلڈ لائف فائونڈیشن کے کام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور آبادی میں اضافے اور اس کے صحت، تعلیم اور ترقی پر اثرات پر قومی سطح پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈبلیو ایف پی کے سکول میلز پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے خاتون اول نے مرکزی کچن ماڈلز میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

خاتون اول نے پاکستان میں بھوک کے خاتمے کے مقصد کے حصول کے لیے ڈبلیو ایف پی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور وفد کو یقین دلایا کہ وہ ملک بھر میں غذائیت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے آگاہی اور حمایت کی سرگرمیوں کے لیے اپنی آواز بلند کریں گی۔انہوں نے ڈبلیو ایف پی کے ’’شیئر دی میل‘‘ اقدام کے لیے اپنی مسلسل حمایت کا بھی اظہار کیا جس میں وہ ذاتی طور پر بھی تعاون کر چکی ہیں۔خاتون اول نے حکومت، اقوام متحدہ اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی سب سے زیادہ کمزور خواتین اور بچوں کو مناسب غذائیت، صحت کی سہولیات اور تعلیم تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔