ڈیجیٹل والٹ اور انٹرآپریبلٹی حکومت پاکستان کی جانب سے بی آئی ایس پی کی خواتین بینیفشریز کے لیے تحفہ ہے، سینیٹر روبینہ خالد

3

اسلام آباد،22ستمبر (اے پی پی): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ اور انٹرآپریبلٹی حکومت پاکستان کی جانب سے بی آئی ایس پی کی خواتین بینیفشریز کے لیے تحفہ ہے، جس کے تحت خواتین ملک کے کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت کسی بھی پارٹنر بینک کے مجاز ریٹیلر سے اپنی رقم وصول کرسکیں گی۔

انہوں نے یہ بات بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں عوامی رابطے کے سلسلے میں بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ سے لائیو ای۔کچہری کے دوران کہی، جس میں ملک بھر سے خواتین بینیفشریز نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے مسائل اور شکایات سے آگاہ کیا۔ چیئرپرسن نے متعلقہ افسران کو موصول ہونے والی شکایات ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین بینیفشریز کو ہدایت کی کہ جن کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہوچکی ہے وہ فوری طور پر نادرا سے شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں تاکہ وظائف کی وصولی میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر بی آئی ایس پی نے خواتین بینیفشریز تک ادائیگی کی رقم محفوظ اور شفاف انداز میں پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نظام شروع کیا ہے۔

چیئرپرسن نے خواتین بینیفشریز پر زور دیا کہ وہ مفت بینظیر سم صرف قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے حاصل کریں اور سم کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں۔ کسی فرنچائز، ریٹیلر یا غیر مجاز شخص سے سم حاصل یا ایکٹیویٹ نہ کروائیں۔ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی کی مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین بینیفشریز سم حاصل کرتے وقت بی آئی ایس پی کے عملے سے کہیں کہ سم ان کے موبائل فون میں خود ڈال کر دیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ بی آئی ایس پی ادائیگیوں میں انٹرآپریبلٹی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت خواتین کسی ایک شہر یا بینک کے ریٹیلر تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ملک کے کسی بھی شہر میں چھ پارٹنر بینکوں کے کسی بھی مجاز اور قابل اعتماد ریٹیلر سے اپنی رقم وصول کرسکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ رقم وصول کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہے۔ ادائیگی کی رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہونے پر متعلقہ بینک کی جانب سے بینظیر سم پر پیغام موصول ہوگا، جسے رقم وصول کرنے سے قبل ضرور چیک کیا جائے۔

چیئرپرسن نے کہا کہ رقم وصول کرنے کے بعد بینک کی جانب سے دوسرا تصدیقی پیغام موصول ہوگا جس میں نکلوائی گئی رقم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ خواتین بینیفشریز دونوں پیغامات محفوظ رکھیں اور رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر، ایجنٹ یا کسی دوسرے شخص کے حوالے نہ کریں۔

انہوں نے سروے کے حوالے سے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سروے کا مقصد گھرانے کی اہلیت کا تعین کرنا ہے اور ایک مرتبہ سروے کروانے کے بعد دو سال سے پہلے دوبارہ سروے نہیں ہوسکتا، اس لیے خواتین بینیفشریز بار بار سروے کروانے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ نہ کریں۔