پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کا اعادہ ، حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کی شرکت سے متعلق قیاس آرائیاں مسترد

5

اسلام آباد،9اکتوبر  (اے پی پی):پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کی شرکت سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے ، اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سیاسی مذاکرات کے عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے،پاکستان نے بھارت سے بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتبار تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی انتظام ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ اور ان کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔  مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے 5 اکتوبر کو ریاض میں منعقدہ ہنگامی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنے اجتماعی دفاعی وعدوں پر عملی طور پر عملدرآمد کی جانب پیشرفت پر اتفاق کیا ہے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔

ترجمان نے کہا کہ کمیٹی نے سکیورٹی کی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں، نیز شہروں، شہریوں اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک نے تیاریوں، فوجی انضمام اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنی اجتماعی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کی منظوری دی۔

اتحاد کی نوعیت واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد رکن ممالک کو جارحیت سے بچانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج حوثی فورسز کے خلاف حملے کرنے کے لئے یمن میں داخل نہیں ہوں گی تاہم پاکستانی افواج سعودی سرزمین کے دفاع اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستان کی بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اور وسائل موجود ہیں،اتحاد اپنے مینڈیٹ کے تحت خطرات کے جائزے اور آپریشنل ضروریات کا تعین کرے گا۔

ترجمان نے حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کی شرکت سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے بالخصوص اس لئے کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں،سکیورٹی کی صورتحال پاکستانی شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔ انہوں نے ان کی فلاح و بہبود کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔

خطے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سیاسی مذاکرات کے عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے جن میں سات نکات پر بات چیت بھی شامل ہے، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے ذریعے ہونے والی پیشرفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  بدستور برقرار ہے اور پاکستان ضرورت پڑنے پر مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کے لئے سہولت کاری جاری رکھنے کو تیار ہے۔انہوں نے زور دیا کہ علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لئے سفارتکاری ناگزیر ہے تاہم اس کی کامیابی کا انحصار متعلقہ فریقین کی جانب سے پُرامن حل کے لئے آمادگی پر ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ مشاورت کے آٹھویں اجلاس کے دوران افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی تاہم مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا کیونکہ افغان طالبان کے وفد نے دہشت گردی سے متعلق پہلے سے طے شدہ عبارت برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔انہوں نے زور دیا کہ افغانستان سے شروع ہونے والی دہشت گردی پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے لئے سکیورٹی کا ایک سنگین خطرہ ہے، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے علاقائی مکالمے کی اہمیت کم نہیں ہونی چاہئے۔

ترجمان نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ اب بھی حل طلب ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے حالیہ دورہ  پاکستان کے دوران اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے کردار سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ کے منصفانہ حل کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس مبصر گروپ کی موجودگی اور کردار کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ نے حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے 7 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کے سرکاری دورے کو بھی اجاگر کیا۔ اس دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔

ترجمان نے ہولی سی (ویٹیکن) کے سیکرٹری برائے تعلقاتِ ریاستی امور و بین الاقوامی تنظیموں، آرچ بشپ پال رچرڈ گالاگھر کے جاری دورہ  پاکستان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے اس عہدے پر فائز کسی شخصیت کا پاکستان کا پہلا دورہ قرار دیا۔یہ دورہ پاکستان اور ہولی سی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران ہونے والی بات چیت میں بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور تعاون کے امور زیرِ بحث آئے، جو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مشترکہ دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے جن میں گلیشیئرز کا پگھلنا، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور شمالی علاقوں میں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے، شجرکاری اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں پر کام کر رہی ہے، عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں نسبتاً کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے ساتھ بیدیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے سخت احتجاج کیا ہے۔پاکستان نے اس واقعہ کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتبار تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کے چار زخمی پاکستانی عملے کے ارکان اور تین پاکستانی شہریوں کی میتیں 4 اکتوبر کو عدیس ابابا سے کراچی واپس لائی گئیں جبکہ باقی تین عملے کے ارکان 7 اکتوبر کو وطن واپس پہنچے۔پاکستانی سفارتی مشنز نے ان کی بحفاظت واپسی میں سہولت فراہم کی۔

سعودی عرب میں پاکستان کی فوجی موجودگی سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج 1982 سے مختلف حیثیتوں میں مملکت میں موجود ہیں جن میں لاجسٹک انتظامات اور تربیتی مشنز بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید فوجی تعیناتیوں کا فیصلہ آپریشنل ضروریات اور اتحاد کے ہیڈکوارٹر کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں کے مطابق کیا جائے گا۔