اسلام آباد، 12 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پائیدار معاشی ترقی، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے یونیورسٹیوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی تبدیلی کا مستقبل علم، تحقیق، کاروباری جدت اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے وابستہ ہے۔
کراچی میں الغزالی یونیورسٹی کی بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں تحقیق اور جدت کے ذریعے اڑان پاکستان کے اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اڑان پاکستان کے پانچ بنیادی ستون برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان، ماحولیات، توانائی اور مساوات پر مبنی قومی ترقی کے جامع لائحہ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے پیداواری صلاحیت، ہنرمند افرادی قوت اور جدت کو فروغ دینا ہوگا۔ جامعات اپنے کیمپس کو توانائی کی بچت، پانی کے تحفظ اور کچرے کے مؤثر انتظام کے عملی مراکز بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت، آبی تحفظ، جدید زراعت اور ماحول دوست صنعتوں کا فروغ کاروباری لاگت کم کرنے اور پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعات کی کامیابی صرف ڈگریوں کی تعداد سے نہیں بلکہ نئی ایجادات، قائم ہونے والے کاروبار، تربیت یافتہ افراد اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری سے جانچی جانی چاہیے۔ اسلام، سائنس اور عوامی پالیسی پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ وسائل کا دانشمندانہ استعمال ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کو نئی معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ ملک میں پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔











