پاکستان اور ایتھوپیا کا دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

6

اسلام آباد، 13 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان ادویات، خوراک اور بینکاری سمیت مختلف شعبوں میں تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، سیکرٹری تجارت جواد پال اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

ملاقات میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور کاروباری روابط مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کو ایتھوپیا کی منڈی تک رسائی دینے اور پاکستانی ادویات کی رجسٹریشن و منظوری کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔

جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی ادویہ سازی کی صنعت افریقی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی ادویات کی رجسٹریشن اور منظوری میں حائل رکاوٹیں جلد دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے بتایا کہ پاکستانی ادویات کی رجسٹریشن کے زیر التوا معاملات متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں اور ان مسائل کو جلد حل کرنے کے لیے مثبت یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

سیکرٹری تجارت جواد پال نے ایتھوپیا کی تکنیکی ٹیم کا دورہ پاکستان جلد یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کا معائنہ اور ضروری جانچ پڑتال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی معائنوں اور قانونی تقاضوں کی بروقت تکمیل سے پاکستانی ادویات کی برآمدات میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔

ملاقات میں عالمی تجارتی تنظیم میں ایتھوپیا کی شمولیت کے عمل اور تجارتی تعاون میں باہمی مفادات کے ساتھ دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایتھوپین سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے تجارتی تحفظات مشاورت کے ذریعے دور کرنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں فریقین نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے مجوزہ معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا اور زیر التوا معاملات جلد نمٹانے کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔