مرحوم ایک مدبر، متحمل مزاج، شفیق اور اصول پسند پارلیمنٹیرین تھے ، نذیر تارڑ

7

اسلام آباد، 13 اکتوبر (اے پی پی):  وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سابق رکن قومی اسمبلی بشیر احمد ورک کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک مدبر، متحمل مزاج، شفیق اور اصول پسند پارلیمنٹیرین تھے جنہوں نے اپنی زندگی قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مرحوم بشیر احمد ورک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ان کا مرحوم کے ساتھ تعلق صرف پارلیمان تک محدود نہیں تھا بلکہ وکالت کے ابتدائی دور سے ہی ان کے ساتھ قریبی تعلق رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے بطور ٹرینی وکیل اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا تو بشیر احمد ورک جیسے سینئر وکلاء کی شفقت اور رہنمائی میسر آئی۔ مرحوم نے انہیں نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی کے آداب سکھائے بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی مسکرا کر مسائل کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بشیر احمد ورک پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنے طویل سیاسی سفر میں ہمیشہ اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ مشکل سیاسی حالات میں بھی وہ اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے اور پارٹی کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ مرحوم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ حساس اور پیچیدہ قانونی معاملات کو نہایت دانشمندی، باریک بینی اور تحمل سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کمیٹی کے اجلاسوں میں ہر رکن کو اپنی رائے دینے کا بھرپور موقع فراہم کرتے اور تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے آگے بڑھاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف کے افسران اور عملہ بھی مرحوم کے حسن سلوک، پیشہ ورانہ قابلیت اور مثبت طرز عمل کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دنیا سے رخصت ہونے والے افراد اپنے کردار، خدمات، اچھی باتوں اور یادوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ بشیر احمد ورک کی شخصیت، شفقت اور پارلیمانی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

وفاقی وزیر قانون نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔