اسلام آباد، 14 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، امن و امان کی سنگین صورتحال اور عوام کے جان و مال کو درپیش خطرات کے پیش نظر غیر معمولی آئینی اقدامات ناگزیر ہوچکے تھے۔ صوبے میں ہنگامی اقدامات سے متعلق صدارتی اعلامیہ کسی عجلت یا سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ تمام آئینی و قانونی تقاضوں، دستیاب رپورٹس اور وفاقی کابینہ کی مشاورت کے بعد آخری آپشن کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو ایک آواز ہوکر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کا مؤثر انداز میں خاتمہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں جبکہ شہداء کے خاندان اور معصوم بچے اپنے پیاروں سے محروم ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کرے، زخمیوں کی عیادت کرے، شہداء کے جنازوں میں شرکت کرے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلائے۔
وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے، روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی اجلاس منعقد کرنے اور عملی اقدامات کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوسوں اور دوسرے صوبوں میں سیاسی متحرک ہونے کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب حالات غیر معمولی ہوں تو ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات بھی غیر معمولی ہونے چاہئیں۔ معمول کے انتظامی اقدامات سے سنگین سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہونے کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کی رپورٹس، دہشت گردی کے واقعات، شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق اعداد و شمار وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گئے۔ ان رپورٹس اور صوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئینی اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔
وفاقی وزیر قانون نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ جب داخلی بدامنی، بیرونی جارحیت یا صوبے میں آئینی نظام کے مطابق امور چلانے میں مشکلات جیسی صورتحال پیدا ہو تو آئین متعلقہ اقدامات کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد صدر مملکت کو آئینی اقدامات کی سفارش کی۔ یہ فیصلہ کسی سیاسی انتقام یا جلد بازی میں نہیں کیا گیا بلکہ صورتحال کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کے بعد آخری آئینی راستے کے طور پر اختیار کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدارتی اعلامیے کے ساتھ دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ 12 اضلاع کے لیے خصوصی انتظامی طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ان علاقوں میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اعلامیہ قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ ایوان اس پر بحث کرے اور آئینی تقاضوں کے مطابق اپنی رائے اور منظوری دے سکے۔
وفاقی وزیر قانون نے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے سیاسی مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے اور فریقین کو ایک میز پر بٹھانے کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی خواہش پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی مذاکراتی عمل میں اپنے نمائندے نامزد کیے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں وفد نے بات چیت میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کئی نشستیں ہوئیں، مختلف تجاویز اور مسودوں پر غور کیا گیا اور رات گئے تک بات چیت جاری رہی، تاہم بعض مطالبات ایسے تھے جنہیں انتظامیہ اپنے اختیارات کے تحت پورا نہیں کرسکتی تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی زیر حراست یا سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے آئین اور قانون میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔ مقدمات، گرفتاری، ٹرائل، سزا اور رہائی کے معاملات قانونی اور عدالتی عمل کے تابع ہیں۔ انتظامیہ عدلیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو سزا معاف کرنے یا اس میں تخفیف کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس کے لیے بھی آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ کسی شخص کی رہائی کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا قانونی راستہ ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں بھی حکومت نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نیک نیتی سے کوششیں کی تھیں۔ اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان انتخابات کے انعقاد اور اسمبلیوں سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کئی معاملات طے پاگئے تھے اور انتخابات کے ممکنہ شیڈول پر بھی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اتفاقِ رائے کی توثیق نہ ہونے کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔
وفاقی وزیر نے 9 مئی 2023 کے واقعات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ سیاست مذاکرات، برداشت، مفاہمت اور جمہوری روایات کے احترام کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں ملک کو شدید معاشی مشکلات اور ڈیفالٹ کے خدشات کا سامنا تھا، تاہم حکومتی اتحاد نے سیاسی مفادات کے بجائے ریاستی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے مشکل فیصلے کیے۔
وفاقی وزیر نے 4 اکتوبر 2026 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری قوتوں کو ایسے واقعات سے سبق سیکھنے اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے حلف اٹھاتے وقت آئین کی پاسداری، ریاست سے وفاداری اور قومی مفادات کے تحفظ کا عہد کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ریاستی مفادات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، سیاسی سنجیدگی اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون ناگزیر ہے۔











