دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں، دہشتگردوں کی واپسی کی پالیسی کے نتائج کا جائزہ لینا ہوگا، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام

5

اسلام آباد۔ 15 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی، مالی اور سیاسی قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے، مؤثر حکمت عملی اور ماضی کی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت سے متعلق صدارتی اعلامیے کی توثیق کے لیے پیش کردہ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور صوبے کے عوام نے اس جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں انہوں نے خود بھی حملوں کا سامنا کیا اور ان کی زندگی کو متعدد مرتبہ خطرات لاحق ہوئے۔ انہوں نے اپنے قافلے کے راستے میں بم دھماکے کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات سے ذاتی طور پر واقف ہیں۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی، چاہے اس کی سیاسی، جانی یا مالی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے دور میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت کی گئی اور تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کیے گئے اور کراچی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھی کارروائیاں کی گئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اداروں، پولیس اور عوام کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر کو پسپا کیا گیا اور ان میں سے بڑی تعداد افغانستان منتقل ہوگئی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بعد کے برسوں میں ان عناصر کو پاکستان واپس آنے کی اجازت کس دور حکومت میں دی گئی اور کن پالیسیوں کے تحت ان سے مذاکرات اور معاہدے کیے گئے۔

انجینئر امیر مقام نے سابقہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ مذاکرات، ان کی واپسی اور بعض افراد کی رہائی سے متعلق فیصلوں کے نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں افراد کی واپسی اور رہائی کے فیصلوں نے امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف ہر مشکل وقت میں آواز بلند کی اور امن کے قیام کے لیے اجتماعی جدوجہد کی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر حقائق قوم کے سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ مختلف ادوار میں کون سی پالیسیاں اختیار کی گئیں اور ان کے کیا نتائج سامنے آئے۔