پاکستان جنگوں کو روکنے کا کریڈٹ نہیں چاہتا بلکہ ایسا مستقبل چاہتا ہے جہاں جنگیں شروع ہی نہ ہوں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

6

 دوحہ/اسلام آباد، 19 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان جنگوں کو روکنے کا کریڈٹ حاصل کرنے کے بجائے ایک ایسا مستقبل چاہتا ہے جہاں جنگیں شروع ہی نہ ہوں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی کوششوں، عالمی رہنماؤں کے ساتھ مضبوط تعلقات اور مسلسل سفارتی روابط نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان ہمیشہ جنگ کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے تعاون اور علاقائی کشیدگی کے بجائے پائیدار امن کا حامی رہا ہے۔

پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عالمی امن کے فروغ میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر محض عالمی سفارت کاری کا مشاہدہ کرنے والا ملک نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے عملی کردار ادا کرنے والا اہم شراکت دار ہے۔ جب دیگر ممالک نے مختلف فریقوں کا ساتھ دینے کو ترجیح دی تو قطر نے مذاکرات اور رابطوں کے دروازے کھلے رکھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر امن کوششوں میں عملی کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تنازعات کا پائیدار حل صرف مسلسل بات چیت اور اعتماد سازی سے ممکن ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ خطے کے لیے انتہائی مشکل رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کیے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے امن کا راستہ اختیار کیا اور کشیدگی میں کمی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی کوششوں، عالمی قیادت کے ساتھ مضبوط روابط اور تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطوں نے مذاکرات کے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ وہ خود بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ ان امن کوششوں میں ذاتی طور پر شریک رہے۔ تہران کے دوروں اور اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ مذاکرات کس قدر مشکل اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر صورتحال انتہائی کشیدہ تھی، تاہم پاکستان نے کوششیں ترک نہیں کیں اور مسلسل بات چیت، ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے اور اعتماد سازی کے ذریعے امن کے امکانات کو برقرار رکھا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ امن کسی ایک ملاقات یا مذاکراتی نشست سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے امن عمل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، جون میں اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط ہوئے جبکہ چند روز بعد سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن سربراہی اجلاس کے دوران پاکستان اور قطر نے دو ثالثی ممالک کی حیثیت سے مشترکہ کردار ادا کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس موقع پر انہوں نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ قطر کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل 16 گھنٹے سے زائد وقت بغیر کسی وقفے کے صرف کیا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران نہ کیمروں کی موجودگی تھی اور نہ کسی تشہیر یا اعلان کی خواہش، بلکہ دونوں رہنماؤں کی تمام تر توجہ مذاکرات کو ناکامی سے بچانے اور امن کی کوششوں کو جاری رکھنے پر مرکوز تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور قطر کا مقصد کبھی امن کوششوں کا کریڈٹ حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح مزید تصادم روکنا اور بے گناہ انسانی جانوں کو بچانا تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ جنگ کے مقابلے میں مذاکرات بہتر راستہ ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

محسن نقوی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ جنگ کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک مستقل امن سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ہمسایہ ممالک تنازعات اور عدم استحکام کا شکار ہوں۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہریوں، فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ پاکستان آج بھی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ دشمن ہے جس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے لیے صرف تعاون کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر اس میں اپنا حصہ بھی ڈالتا رہا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوج اور پولیس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستانی امن دستے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں شہریوں کے تحفظ، مقامی پولیس کی معاونت اور امن و امان کی بحالی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو اپنے امن دستوں کی خدمات اور قربانیوں پر فخر ہے۔انہوں نے حالیہ سفارتی تجربات سے حاصل ہونے والے تین اہم اسباق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا سبق یہ ہے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہئیں، دوسرا یہ کہ اعتماد کسی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے اور تیسرا یہ کہ پائیدار امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مخلصانہ اور مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک تنہا پورے خطے میں امن قائم نہیں کر سکتا، اس کے لیے مشترکہ عزم، باہمی اعتماد اور مسلسل سفارتی تعاون ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ امن کوششوں میں اپنے کردار پر فخر ہے اور وہ مستقبل میں بھی مذاکرات، امن اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنگ جیتنے سے کہیں زیادہ اہم امن کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ “ہم جنگوں کو روکنے کا کریڈٹ نہیں چاہتے، ہم ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں جنگیں شروع ہی نہ ہوں۔