وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کے زیرِ اہتمام پاکستان میں جدید اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ٹیکس نظام سے متعلق اعلیٰ سطحی ورکشاپ کا انعقاد

7

اسلام آباد، 20اکتوبر (اے پی پی ): وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) 20 اور 21 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ’’پاکستان میں جدید اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ٹیکس نظام کی اصلاحات‘‘ کے موضوع پر دو روزہ اعلیٰ سطحی ورکشاپ منعقد کر رہے ہیں۔ ورکشاپ میں اعلیٰ حکومتی حکام، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندگان، بین الاقوامی ٹیکس ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ ورکشاپ میں پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے سے متعلق اہم ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ورکشاپ میں چھ اہم موضوعاتی نشستیں ہوں گی، جن میں ٹیکس اور اقتصادی ترقی، پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانا، وفاق اور صوبوں میں یکساں سیلز ٹیکس نظام کا قیام، زیادہ سادہ اور غیر جانب دار انکم ٹیکس نظام، ٹیکس نظام کے انتظامی امور، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد، نیز مالیاتی وفاقیت اور صوبائی ٹیکس محصولات شامل ہیں۔ ان نشستوں میں ایک وسیع، منصفانہ، سادہ اور مستحکم و شفاف ٹیکس نظام کی تشکیل پر غور کیا جائے گا، جو محصولات میں اضافے، سرمایہ کاری، کاروباری وسعت اور پیداواری صلاحیت کے فروغ میں معاون ثابت ہو۔

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر، جہاد ازور، اور آئی ایم ایف کے شعبۂ مالیاتی امور کے ڈائریکٹر، روڈریگو والڈیز، کے ہمراہ ورکشاپ کے افتتاحی کلمات ادا کیے ہیں۔ دو روزہ ورکشاپ کے دوران ’’اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے بہتر ٹیکس پالیسی‘‘، ’’پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کی ضرورت‘‘، ’’وفاق اور صوبوں میں یکساں سیلز ٹیکس نظام کی تشکیل اور نفاذ‘‘، ’’زیادہ سادہ اور غیر جانب دار انکم ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت‘‘ اور ’’بہترین طریقۂ کار کے مطابق ٹیکس نظام کے انتظامی امور: ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس قوانین کی تعمیل اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد‘‘ سمیت اہم موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔ ورکشاپ میں آخری نشست ’’مالیاتی وفاقیت اور صوبائی ٹیکس محصولات‘‘ کے موضوع پر ہوگی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ ہوگا، جس میں زیرِ بحث تجاویز کو یکجا کرنے، آئندہ کے لیے ترجیحی اقدامات کا تعین کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کے طریقۂ کار وضع کرنے پر غور کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک زیادہ مؤثر اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ٹیکس نظام کے قیام کے لیے ٹیکس اصلاحات کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔