اسلام آباد، 20 اکتوبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے قومی سطح پر محفوظ، مؤثر اور مربوط نظام کا قیام ناگزیر ہے ، وزارتِ صحت قومی ہیلتھ انفارمیشن نظام کے قیام اور وفاق و صوبوں کے درمیان صحت سے متعلق معلومات کے محفوظ تبادلے کے لیے ڈیٹا شیئرنگ فریم ورک پر کام کر رہی ہے۔
16ویں سالانہ بین الاقوامی پبلک ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار بھرتھ نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کو عالمی مرکزِ امتیاز تسلیم کیے جانے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ہیلتھ انفارمیشن نظام کے تحت طبی مراکز سے صحت کا ڈیٹا ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح تک منتقل کیا جا سکے گا، جس سے بیماریوں کی نگرانی اور صحتِ عامہ کی منصوبہ بندی کو مؤثر بنایا جا سکے گا۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ صحت کے ڈیٹا کے تبادلے کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ باقی صوبوں اور علاقوں کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے ڈیٹا کا تحفظ اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ صحت ہیلتھ سکیورٹی ایکٹ تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون میں صحت سے متعلق معلومات کے تحفظ اور رازداری کے لیے واضح ضوابط شامل ہوں گے جبکہ وفاق، صوبوں اور علاقوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کو قانونی بنیاد فراہم کی جائے گی۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کی کامیابی کے لیے صرف ڈیٹا جمع کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی درستگی، قابلِ اعتماد ہونے اور مختلف ڈیجیٹل نظاموں کے ساتھ مطابقت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے ڈیٹا کا تحفظ اور مصنوعی ذہانت کا اخلاقی استعمال ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کے بنیادی تقاضے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ طبی افرادی قوت تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے مستند ڈیٹا ضروری ہے تاکہ آبادی کے مختلف طبقات اور کمیونٹیز کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے مؤثر حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
انہوں نے گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے ہیلتھ مینیجرز پر زور دیا کہ وہ صحت سے متعلق معلومات ایک مشترکہ ڈیجیٹل نظام کے تحت شیئر کریں، جس میں متعدی اور غیر متعدی بیماریوں سمیت صحتِ عامہ سے متعلق تمام معلومات یکجا ہوں۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان کو صحت کے شعبے میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مستند، بروقت اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی دستیابی ناگزیر ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی بیماریاں کن آبادیوں میں زیادہ پائی جا رہی ہیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔
انہوں نے پولیو پروگرام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ڈیٹا جمع کرنے، اس کی تصدیق اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تبادلے کے حوالے سے بہترین کام کر رہا ہے۔ ڈیٹا کی دستیابی اور تصدیق پولیو کے خلاف مؤثر اقدامات اور حاصل ہونے والی کامیابیوں کی اہم بنیاد ہے۔
وزیر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان صحت کے ڈیٹا کا مؤثر تبادلہ یقینی بنانے سے بیماریوں کی روک تھام اور پاکستان کے نظامِ صحت کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔











