اسلام آباد۔ 21 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے، وفاقی دارالحکومت میں 150 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک پور میں 108 کنال سرکاری اراضی پر غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں جبکہ تقریباً 150 ایکڑ رقبے پر آٹھ بڑے عجائب گھر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مجوزہ منصوبے میں قومی ورثہ میوزیم، تاریخ میوزیم، مسلح افواج کے عجائب گھر اور اسلامی میوزیم سمیت آٹھ بڑے عجائب گھر شامل ہوں گے، جن میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت، قومی ورثے اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ بعض افراد کئی دہائیوں سے سرکاری زمینوں پر قابض ہیں جبکہ مختلف مقامات پر غیر قانونی تعمیرات اور فارم ہاؤسز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ سرکاری اراضی پر قبضے کے ذمہ دار صرف قابض افراد نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے وہ اہلکار بھی ہیں جن کی غفلت یا ملی بھگت سے یہ قبضے ممکن ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی قبضہ کرنے والے اور اس کی سہولت فراہم کرنے والے سی ڈی اے اہلکار دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اسلام آباد کی سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے اور اس سلسلے میں میڈیا سمیت تمام متعلقہ حلقوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً 150 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اقدامات کے دوران متعدد عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں جبکہ بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جہاں انتظامیہ اپنا مؤقف پیش کر رہی ہے۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی دارالحکومت کی سرکاری اراضی کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرا کے عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔











