اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 کروڑ ڈالر کے تجارتی حجم کے حصول کےلئے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالدیپ کے صدر کا دورہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا جبکہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا خواہاں ہیں، اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی، پاکستانی تعمیراتی اورانجینئرنگ کمپنیاں مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں مالدیپ-پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، مالدیپ کے ہمراہ وفد کے ارکان اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے مخلص دوست ہیں اور ان کا دورہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ ثابت ہوگا، یہ دورہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو فروغ دینے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے قریبی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کا فیصلہ کیا ، اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہےجسے آئندہ دو برسوں میں بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان اور مالدیپ کی کاروباری شخصیات اور اداروں سے کہنا چاہوں گا ہمارے پاس ایک موقع موجود ہے جس سے استفادہ کرتے ہوئے ہم اسے ایک ٹھوس عملی منصوبے میں تبدیل کر سکتے ہیں، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مل کر مشترکہ کوششیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ مالدیپ کے صدر کی وطن واپسی کے بعد پاکستانی تاجروں اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد مالدیپ بھیجا جائے گا جن کا مالدیپ میں متعلقہ شعبوں میں برآمدات میں تجربہ ہوگا، متعلقہ وفاقی وزراء اور سرکاری حکام بھی وفد میں شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بھرپور تیاری کرتے ہوئے تجارتی حجم کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں معمول سے بڑھ کر کوششیں اور محنت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان فضائی رابطوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بہت ضروری ہیں، اسلام آباد اور مالے کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں، اس وقت پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزارت ہوا بازی کو براہ راست پروازوں کے لیے فوری فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ براہ راست فضائی پروازیں جتنی جلدی ممکن ہو شروع کی جا سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحری رابطے بھی اہمیت کے حامل ہیں، لہذا مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اس ضمن میں بھی مستعدی سے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے کسی صدر نے 11 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے، امید ہے کہ اب یہ دورے تواتر سے ہوں گے۔ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان-مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم بہت اہمیت کا حامل ہے جس کے انعقاد اور اس میں شرکت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرنا باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو گہرے برادارانہ تعلقات سے عبارت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا باہمی اعتماد اور دوستی کا ثبوت ہے، پاکستان اور مالدیپ کی دوستی اور سفارتی اعتماد گہرا ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا خواہاں ہیں۔
صدر محمد معیزو نے کہا کہ یہ نہایت مناسب وقت ہے کہ ہم اپنے برادارانہ تعلقات کو تجارتی روابط، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کریں، یہی وجہ ہے کہ میں نے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز دوطرفہ تجارت دو سال میں 20 کروڑ ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا جس کے حصول کے لیے تمام تر کاوشیں بروئے کار لائی جائیں گی جس سے نہ صرف کاروباری مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقائی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔
انہو ں نے کہا کہ غذائی تحفظ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے، پاکستان کا زرعی شعبہ مالدیپ کی غذائی ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس زراعت، ٹیکنالوجی، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی دوا ساز کمپنیا ں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تعمیراتی اورانجینئرنگ کمپنیوں کو مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ دستیاب مواقع سے استفادہ کریں، انہیں ہرممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ اسلامی مالیات اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
مالدیپ کے صدر نے کہا کہ مالدیپ 2028ء تک بجلی کی ضروریات کا 33 فیصد قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کا ہدف رکھتا ہے، پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سمندری رابطوں کے قیام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے کوریڈور بنانے کی ضرورت ہے جس سے تجارت کو موثر انداز میں فروغ ملے۔ مالدیپ کی قومی ایئرلائن جلد مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت، ادویہ سازی اور صحت کے شعبے میں تعاون کے مواقع سے استفادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ قبل ازیں مالدیپ کے وزیر برائے اقتصادی ترقی، ٹرانسپورٹ و تجارت محمد سعید کا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان کا پرتپاک میزبانی اور قابل قدر تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی موجودگی مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو آئندہ 2 سال میں 20 کروڑ ڈالرز تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، مالدیپ مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے قریبی تعاون کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بزنس فورم باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں اور کاروبار کے ابھرتے مواقع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرے گا۔











