قومی اسمبلی اجلاس؛ لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل منظور، نجکاری کمیشن ترمیمی بل پیش

3

اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی): قومی اسمبلی نے جمعرات کو لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیا، جبکہ نجکاری کمیشن (ترمیمی) بل 2026 ایوان میں پیش کیا گیا۔ اجلاس میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 بھی پیش کیا گیا۔ وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس کے دوران زرعی پیداوار، موسمیاتی تبدیلیوں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، اسلام آباد کے زیر التوا رہائشی سیکٹرز، متاثرینِ اراضی کو معاوضوں کی ادائیگی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے لائف انشورنس نیشنلائزیشن آرڈر 1972 میں مزید ترمیم کا بل، لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل 2026، ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا۔

بل کی شق وار منظوری کے دوران شق 7 میں ایک ترمیم پیش کی گئی، جس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے انشورنس کمپنی کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو منتقل کیے جانے تک انشورنس آرڈیننس 2000 کے تحت پالیسیوں سے متعلق ایکچوریل تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والی سرپلس رقم کی تقسیم یا اسے محفوظ رکھنے کا عمل متعلقہ قانونی دفعات، پالیسیوں، معاہدوں اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی شرائط کے مطابق جاری رہے گا۔

ایوان نے ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی، جس کے بعد شق 7 کو ترمیم شدہ صورت میں منظور کیا گیا۔ بعد ازاں بل کی دیگر شقوں، تمہید اور عنوان کی منظوری دی گئی۔ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے بل کی حتمی منظوری کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

اس سے قبل نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 میں مزید ترمیم کا بل، نجکاری کمیشن (ترمیمی) بل 2026، قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 89 کی شق 2 کے تحت کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026، آرڈیننس نمبر 5 مجریہ 2026، بھی ایوان میں رکھا گیا۔ ایوان کو بتایا گیا کہ مذکورہ آرڈیننس 13 اکتوبر 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا جا چکا ہے۔

اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں مزید ترمیم سے متعلق بل کی قائمہ کمیٹی رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کے حوالے سے تحریک بھی ایوان میں پیش کی گئی، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کمیٹی کی جانب سے کارروائی میں حصہ لیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں کئی دہائیوں سے زیر التوا رہائشی سیکٹرز کی ترقی، تجاوزات کے خاتمے اور الاٹیوں کو پلاٹوں کا قبضہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ سی ڈی اے میں سیکٹرز کی ترقی اور متعلقہ امور کی نگرانی کے لیے ایک علیحدہ ممبر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکٹر ای بارہ کا آغاز 1985 میں ہوا تھا اور 1990 کی دہائی میں الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے گئے، تاہم مختلف مسائل کے باعث شہریوں کو طویل عرصے تک پلاٹوں کا قبضہ فراہم نہیں کیا جا سکا۔ اب سیکٹر میں تقریباً 95 فیصد قبضہ فراہم کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ترقیاتی کام جاری ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ سیکٹر سی سولہ کا منصوبہ 2008 میں شروع ہوا تھا، جس میں دو ہزار 218 رہائشی پلاٹ شامل ہیں۔ اس سیکٹر میں بھی ترقیاتی کام اور الاٹمنٹ و قبضے سے متعلق معاملات کو مکمل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اراضی کے مجموعی طور پر 515 متاثرین میں سے 412 کو نقد رقم یا زمین کی صورت میں معاوضہ فراہم کیا جا چکا ہے۔ باقی متاثرین کے بعض معاملات خاندانی تنازعات، قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائیوں کے باعث زیر التوا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعمیر شدہ املاک کے دو ہزار 51 کیسز میں سے تقریباً ایک ہزار 800 کو معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد کے تینوں ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ سی ڈی اے حکام کی ملاقات میں متاثرین کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور طے پایا کہ حقیقی متاثرین کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعمیر شدہ املاک سے متعلق قواعد میں تین مرتبہ تبدیلیوں اور معاوضوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکٹر سی سولہ میں اراضی کے حصول کے وقت تعمیر شدہ ڈھانچوں کی تعداد ایک ہزار 115 تھی، جو بڑھ کر تقریباً چار ہزار 600 ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق بعض تعمیرات معاوضے یا متبادل پلاٹ کے حصول کے لیے بھی کی گئی ہیں، اس لیے حقیقی متاثرین اور دیگر دعویداروں کے معاملات میں فرق کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کے جائز حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے زیر التوا معاملات حل کیے جائیں گے۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان میں آم کی پیداوار پر اثر انداز ہو رہی ہیں جبکہ نقصان دہ کیڑے اور فصلوں کی بیماریاں بھی زرعی شعبے کے لیے چیلنج ہیں۔ حکومت زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، فصلوں کے تحفظ اور کسانوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے تقریباً 17 اسکیمیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 2025-26 سے 2027-28 کے دوران زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جن میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، کھالوں کی اصلاح، جدید زرعی مشینری کی فراہمی اور زرعی تحقیق کا فروغ شامل ہیں۔