بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر زرعی وسائل کا مؤثر استعمال اور نامیاتی خوراک کی پیداوار ضروری ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

6

اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر دستیاب زرعی وسائل کے مؤثر استعمال اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آبادی میں اضافے کی شرح پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ وسائل کی بہتر تقسیم، عوام کی خوشحالی اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ زرعی زمین اور قدرتی وسائل محدود ہیں۔ اس صورتحال میں بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں زرعی اجناس اور غذائی اشیاء کی پیداوار کے لیے نامیاتی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، جن میں کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کا استعمال کم سے کم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی صحت بخش اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے ایسے طریقوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کرکے محدود وسائل کی بہتر تقسیم ممکن بنائی جا سکتی ہے، جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے اور زرعی شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ خوراک کے معیار پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو صحت بخش غذائی اشیاء دستیاب ہوں۔ نامیاتی زراعت کے فروغ اور کیمیائی مادوں کے کم سے کم استعمال سے بہتر فصلوں اور معیاری خوراک کی پیداوار کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آبادی اور دستیاب وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا ملک کی پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور عوامی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔