پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے ساختی اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے،وفاقی وزیر خزانہ

1

لاہور،24اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے ساختی اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے اور حکومت کی توجہ برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی، ٹیکس نظام کی بہتری، توانائی کی لاگت میں کمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔

ہفتہ کو یہاں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ماضی کے بوم اینڈ بسٹ معاشی چکر سے نکل کر ایسی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ درآمدات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے باعث ماضی میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے تھے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے برآمدات میں اضافے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں گزشتہ سال اپریل سے اب تک تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں سال اپریل میں نجی پلیسمنٹ کی، پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کی کوششیں آگے بڑھائیں اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب یورو کے بانڈز جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی یورو بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ حجم سے دوگنا تھے، جبکہ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ ماضی میں یہ ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار اب آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی معاشی صورت حال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہونا ہے، اس لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنانے کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں بہتری، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے اور ٹیکس سلیب میں کمی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان کو ساڑھے چار فیصد شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کی سہولت بھی بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے ٹیرف اور توانائی کی لاگت میں کمی ضروری ہے، جبکہ صنعتوں کو اضافی بجلی تقریبا 23 روپے فی یونٹ کے نرخ پر فراہم کرنے کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو ایسی معاشی ترقی کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے۔ محض سات سے آٹھ فیصد معاشی ترقی کافی نہیں، بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا اور ان کے معیار زندگی میں بہتری آنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ رواں مالی سال ان کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان، بالخصوص فری لانسرز، گھروں سے کام کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کو آئی ٹی خدمات فراہم کر رہے ہیں اور آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ تقریبا 1.6 ارب ڈالر ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت میں ترقی سے زرمبادلہ کے حصول، روزگار کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ علاقائی جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا، تاہم اس کے باوجود ان میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت اور زرمبادلہ کی دستیابی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔توانائی کی صورت حال کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے طویل قطاریں نہیں لگیں۔ خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے اور نومبر تک ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں، جبکہ موسم سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور مائع قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ امداد حقیقی ضرورت مند طبقات تک پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن کی حامل گاڑیوں کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ منفردافراد فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تقریبا چار سے پانچ کروڑ افراد اس ریلیف سے مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہدفی امداد کے ذریعے محدود سرکاری وسائل زیادہ مستحق افراد تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح تقریبا 2.55 فیصد ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات پر دبائوبڑھ سکتا ہے، اس لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور ساختی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران نے ایک دہائی کے دوران آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے کم کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شرکت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح تقریبا 22.7 فیصد ہے، جس میں اضافے سے ملکی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے اور علاقائی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھا جائے، برآمدات کو وسعت دی جائے، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنایا جائے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرکے روزگار دوست ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔