اسلام آباد، 26 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں گرین سکلز کے فروغ کے لیے محض ورکشاپس، اجلاسوں اور کونسلوں کے قیام کے بجائے عملی تربیت، جدت اور قابل پیمائش تعلیمی نتائج پر توجہ دینا ہوگی، نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور کاروباری مواقع فراہم کیے بغیر ملک میں حقیقی سبز انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو گرین سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور غربت کے خاتمے کا بنیادی ذریعہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے جس کے لیے جدت ناگزیر ہے، محض بیرون ملک سے ٹیکنالوجی درآمد کرنے سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ فرق ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نئی ٹیکنالوجی پاکستان پہنچنے تک کئی سال پرانی ہو چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں جدت نہیں ہوگی وہ پائیدار ترقی نہیں کر سکے گا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، گزشتہ 10 سے 15 سال کے دوران موسمیاتی تبدیلی سے متعلق واقعات میں تقریباً چھ ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی اور چار کروڑ کے قریب افراد متاثر یا بے گھر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی، سموگ اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے مسائل جدید ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر اختراعی حل کا تقاضا کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اگر انہیں تحقیق، جدت اور کاروبار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ صاف پانی، فضائی آلودگی، بیٹری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ گرین سکلز کی واضح تعریف، تربیتی اہداف اور سیکھنے کے قابل پیمائش نتائج متعین کیے جائیں اور انہی کی بنیاد پر نوجوانوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جس طرح ہم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کے لیے وسائل خرچ کرتے ہیں اسی طرح کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو بھی جدید تکنیکی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، نوجوانوں کو ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور خصوصی تکنیکی تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجا جائے تاکہ وہ جدید مہارتیں حاصل کرکے ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے فن لینڈ، جرمنی، سنگاپور اور آسٹریلیا کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں تحقیق، عملی تربیت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو ایک مربوط نظام کے تحت فروغ دیا جاتا ہے، پاکستان میں بھی ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عملی اختراعات اور نئے کاروباری منصوبوں میں تبدیل کر سکے۔











