اسلام آباد،26اکتوبر (اے پی پی):27 اکتوبر 1947ء کے واقعات کی یاد تازہ کرنے کے لیے یومِ سیاہ جموں و کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس روز بھارتی فوجیں سری نگر میں داخل ہوئیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسا تنازع شروع ہوا جو 79 سال گزرنے کے باوجود آج تک حل نہیں ہو سکا۔ یہ دن کشمیری عوام کی مشکلات، قربانیوں اور جدوجہد کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے کیے گئے بین الاقوامی وعدوں، بالخصوص حقِ خودارادیت، کی تجدید کا دن بھی ہے۔
تقریباً آٹھ دہائیوں سے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام طویل سیاسی بے یقینی، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کشمیری عوام نے نسل در نسل غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی شناخت، عزت و وقار اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔ ان کی قربانیاں احترام کے ساتھ یاد رکھنے کے لائق ہیں اور ان کی آواز کو سنا جانا چاہیے۔
5 اگست 2019ء کے بعد ہونے والے واقعات نے مسئلہ جموں و کشمیر کو مزید سنگین اور تشویش ناک صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ یک طرفہ طور پر آئینی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں، سیاسی سرگرمیوں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، طویل عرصے تک گرفتار رکھنا اور ایسے اقدامات جن سے علاقے کی آبادی اور سیاسی حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کشمیری عوام کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کو جموں و کشمیر کی حیثیت اور اس تنازع کے بین الاقوامی پہلو سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اصولی اور مستقل ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ کوئی بھی یک طرفہ اقدام ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس مسئلے کا پائیدار حل پُرامن، منصفانہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل کشیدگی بھی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا کتنا ضروری ہے۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں، بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اقدامات ناگزیر ہیں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، کو چاہیے کہ وہ امن کے فروغ اور اس دیرینہ تنازع سے متاثرہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے۔
یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر میں کشمیری عوام کی ان نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور عظیم قربانیاں دیں۔ میں ان خاندانوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں جو آج تک اس غیر حل شدہ تنازع کے اثرات اور مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کی حیثیت سے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مسلسل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ ہم کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور عالمی برادری کے سامنے ان کے مسائل اور خدشات کو اجاگر کرتے رہیں گے۔
یومِ سیاہ جموں و کشمیر صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم ایسے مستقبل کے لیے کوششیں جاری رکھیں جس میں غیر قانونی بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام امن، تحفظ اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہو۔











