سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کشمیری حقِ خودارادیت کے منتظر: 27 اکتوبر کو پاکستان اور عالمی سطح پر “یومِ سیاہ” کا انعقاد

11

 

اسلام آباد، 27 اکتوبر (اے پی پی): پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری 27 اکتوبر کو ‘‘یومِ سیاہ’’  کے طور پر منا رہے ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جب 1947ء میں بھارتی افواج ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئی تھیں، جس نے جنوبی ایشیا میں ایک ایسے تنازع کو جنم دیا جو آج بھی عالمی برادری، انسانی حقوق اور خطے کے امن کے لیے ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔

برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور بہتے دریاؤں کی یہ خوبصورت سرزمین، جسے دنیا  ‘‘جنت نظیر’’ کے نام سے جانتی ہے، دہائیوں سے مظالم کا شکار ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کا واقعہ اس تنازع کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا، جس کے سیاسی، تاریخی اور انسانی اثرات آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اتنی ہی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال، اظہارِ رائے پر پابندیوں، بے جا گرفتاریوں اور شہری آزادیوں کی سلب کاری پر متعدد بار شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف سرحدوں یا جغرافیے کا تنازع نہیں، بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل، ان کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کا معاملہ ہے۔ ہر انسان کو خوف سے آزاد ماحول میں رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنی رائے دینے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر یہ ایک تاریخی تنازع رہا ہے۔ 1948ء اور 1949ء میں منظور ہونے والی متعلقہ قراردادوں میں کشمیری عوام کے لیے”استصوابِ رائے” کا واضح طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔ پاکستان کا روزِ اول سے یہی پائیدار اور دیرینہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

27 کتوبر کا دن یہ پیغام دیتا ہے کہ اس دیرینہ تنازع کا پائیدار حل طاقت یا کشیدگی میں نہیں، بلکہ بامعنی مذاکرات، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق کے احترام اور انصاف کی فراہمی میں پوشیدہ ہے۔ کشمیری عوام بھی دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح امن، تحفظ، خوشحالی اور باوقار مستقبل کا مکمل حق رکھتے ہیں۔