پاکستان کا بحری سلامتی کے فروغ کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور

18

اقوام متحدہ، 29 اکتوبر (اے پی پی) : پاکستان نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ، بحری سلامتی کو مستحکم بنانے اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے بعنوان “ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات” سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے تکنیکی ترقی، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت اور بحری سلامتی کو درپیش چیلنجز کے باہمی تعلق کی نشاندہی کی۔

سفیر جدون نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، بلاک چین اور بغیر پائلٹ خودکار نظاموں سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بحری شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں نئے خطرات اور غلط اندازوں پر مبنی فیصلوں کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرونز کے جھنڈ اور طویل وقت تک فضا میں رہ کر ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کی آسان دستیابی نے تجارتی جہازرانی، بحری آمدورفت اور اہم بحری تنصیبات کو لاحق خطرات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ جہازرانی کے نظام اور بندرگاہوں کے انتظامی امور کی ڈیجیٹلائزیشن نے انہیں سائبر حملوں کے لیے مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ان ٹیکنالوجیز سے استفادے اور ان کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور عالمی سطح پر قابلِ قبول ضابطہ جاتی فریم ورک وضع کیا جائے۔ اس ضمن میں بالخصوص عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک کے لیے استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو انسانی ہمدردی کے مقاصد، بشمول قزاقی کے خطرات سے دوچار بحری عملے کو امداد فراہم کرنے کے لیے بھی باآسانی دستیاب ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی قانون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سفیر جدون نے کہا کہ اقوام متحدہ کا کنونشن برائے قانونِ سمندر (یو این سی ایل او ایس) بین الاقوامی بحری نظام کی بنیاد اور اس کا سنگِ میل ہے، جس کے تحت قائم قانونی نظام کا عالمی سطح پر تحفظ اور فروغ ناگزیر ہے۔

اہم بحری گزرگاہوں، بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحری آمدورفت میں تعطل اور تجارتی جہازوں پر حملے عالمی توانائی، غذائی تحفظ اور اقتصادی سلامتی کو تیزی سے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

پاکستان نے باب المندب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو نشانہ بنانے کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بحری سلامتی اور علاقائی امن و ترقی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ سفیر جادون نے مملکت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بحرِ ہند کا ایک ساحلی ملک ہونے اور اپنی تجارت کے بڑے حصے کے لیے بحری راستوں پر انحصار کے باعث پاکستان بحری تحفظ اور سلامتی کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی جہازرانی کو تنازعات اور کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے بلکہ اسے عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی کے فروغ کا ذریعہ برقرار رہنا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر جدون نے بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اس امر کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا کہ سمندر تنازعات، محاذ آرائی اور فوجی مسابقت کا میدان بننے کے بجائے امن و تعاون کا خطہ بنے رہیں۔