اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ پاسکو کے خاتمے کے بعد موجود گندم متعلقہ اداروں اور صوبوں کو فراہم کرنے کے لیے خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جبکہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور دیگر متعلقہ علاقوں کو بھی گندم فراہم کی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شاہدہ رحمانی اورعالیہ کامران کے سوالات پرپارلیمانی سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق شائستہ خان نے ایوان کوبتایا کہ پاسکو کے خاتمے کے بعد موجود گندم متعلقہ اداروں اور صوبوں کو فراہم کرنے کے لیے خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جبکہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور دیگر متعلقہ علاقوں کو بھی گندم فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات بھی کی گئی ہیں اور درآمد شدہ گندم کے ذخائر گوداموں میں پہنچ چکے ہیں۔ گندم کی ترسیل اور صوبوں تک فراہمی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت ایک ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے گندم کی نقل و حمل، متعلقہ صوبے اور ترسیل کی مکمل تفصیلات کی نگرانی کی جا سکے گی۔ ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ پاسکو مالی اور انتظامی مسائل کے باعث زوال پذیر تھا، کیونکہ بعض صوبے اس کے واجبات اور بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نجی شعبے کو مناسب طریقے سے شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ نجی کمپنیوں کے کام کی نگرانی اور ان کے احتساب کے لیے بھی نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ گندم کی فراہمی اور تقسیم کے عمل کو موثر بنایا جا سکے۔











