وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کیلئے مختلف ڈیمز کی تعمیر پر مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں، پارلیمانی سیکرٹری وزارت آبی وسائل رعناانصارکاقومی اسمبلی میں جواب

11

اسلام آباد۔30اکتوبر  (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری وزارت آبی وسائل رعناانصارنے کہاہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مختلف ڈیمز کی تعمیر پر مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں ،دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور صوبوں کو پانی کی تقسیم کی نگرانی کے لیے 27 مقامات پر ٹیلی میٹری نظام نصب کیا جائے گا۔

 قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران  انہوں نے ایوان کوبتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کا  بڑا آبی منصوبہ ہے جس پر کام جاری ہے اور اس کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مختلف مراحل اور پی سی ون کی تکمیل کے بعد اس کی تعمیر آگے بڑھ رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم تربیلا ڈیم کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے کے حوالے سے اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے 2018 میں منظور کی گئی قومی آبی پالیسی کے تحت ارسا اور وفاقی حکومت کو 27 مقامات پر ٹیلی میٹری نظام نصب کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس نظام کے ذریعے دریاؤں میں پانی کے بہائو اور پنجاب، سندھ سمیت مختلف صوبوں کو فراہم کیے جانے والے پانی کی مقدار کی نگرانی کی جا سکے گی۔  ان مقامات کی نشاندہی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ واپڈا اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی باہمی تعاون سے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب کے لیے پی سی ون بھی تیار ہے اور مختلف مقامات پر اس کی تنصیب کی تیاری جاری ہے۔

 خورشیدجونیجوکے ضمنی سوال پرانہوں نے بتایا کہ ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب صوبوں کی مشاورت اور ان کے محکمہ آبپاشی کے ساتھ رابطے میں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ 27 مقامات کی فہرست رکن قومی اسمبلی کو فراہم کی جائے گی، جس میں تونسہ، سندھ بیراج اور چشمہ لنک سمیت دیگر مقامات کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔