اسلام آباد،31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ نعتیہ شاعری اردو ادب کی ایک مقدس اور عظیم صنف ہے، محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے معیاری اور بامقصد نعتیہ تقریبات کا انعقاد ہونا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے الزاویہ الجزولیہ پاکستان، پنجاب ادبی پرچار اور اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے نعتیہ مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مشاعرہ ہفتہ کو شیخ آیاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد ہوا۔تقریب کی صدارت معروف شاعر و ادیب افتخار عارف نے کی جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں ڈاکٹر احسان اکبر، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، عباس تابش اورعرش باشی نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی۔
اس موقع پروفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے نعتیہ مشاعرے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ نعت کےحوالے سے اس نوعیت کی معیاری اور بامقصد تقریبات کا انعقاد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الزاویہ الجزولیہ پاکستان، پنجاب ادبی پرچار اور اکادمی ادبیات پاکستان کی ایسی خوب صورت اورروحانی محافل کے انعقاد پر داد کی مستحق ہیں۔نعتیہ مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعرائے کرام نے شرکت کی اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت کے گلہائے عقیدت پیش کیے۔
شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعے حضور اکرم ﷺ سے اپنی والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔
صدرِ محفل اور دیگر مقررین نے نعتیہ شاعری کی ادبی و روحانی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نعت، اردو ادب کی ایک عظیم اور مقدس صنف ہے، جو محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر منتظمین نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون اور تمام شرکاء، مہمانوں اور شعرائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔











