آزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظر عام پر

10

اسلام آباد، 31 اکتوبر ( اے پی پی): سپرنٹنڈنٹ پولیس امیر الدین نے باغ کے گاؤں پندی میں پیش آنے والے واقعے کے پس پردہ فسادی جتھے کا مجرمانہ کردار بے نقاب کر دیا۔

ایس پی ضلع باغ امیر الدین نے کہا کہ 29 اکتوبر کو پندی گاؤں میں پیش آنے والے واقعے میں خواتین اور دو معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پندی گاؤں میں واقعے کے بعد شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بے دریغ فائرنگ کی گئی۔

ایس پی امیر الدین نے کہا کہ دھماکے کے بعد متاثرہ گھر کی دیواروں پر نشانات اور فرش پر گڑھا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ بارودی مواد گھر کے اندر ہی رکھا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ واقعے سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ یہ انتشاری ٹولہ غریب لوگوں کے گھروں کو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

ایس پی نے کہا کہ واقعے کے بعد فسادی جتھے نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم شروع کی اور الزام اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، فسادی جتھہ روز اول سے ہی ریاست سے ٹکراؤ کے لیے سوشل میڈیا کو بطور خاص استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کا خون بہانے والے فسادی عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرت ناک سزا دی جائے گی، فسادی جتھے کی جانب سے عام شہریوں کے گھروں کو اپنی شرپسندانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔