اسلام آباد، 31 اکتوبر ( اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سعودی عرب کے نئے تعینات ہونے والے سفیر ڈاکٹر راجح البقمی نے ملاقات کی ہے۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت پاکستان کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان کی صنعتی و پیداواری صلاحیتوں سے سعودی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مصنوعات کے معیار میں بہتری پر گفتگو ہوئی۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو سعودی مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ رسائی دلانا ہماری ترجیح ہے، پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ نجی شعبے کی شراکت داری بڑھانا ضروری ہے۔دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ سعودی سفیر نے پاکستان کے ساتھ زرعی تعاون اور علاقائی تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط اور اس کے نفاذ پر بھی بات چیت ہوئی۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ نئی منڈیوں تک رسائی اور تجارت میں اضافے کا اہم ذریعہ بنے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، گزشتہ تین برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ حکومتی، کاروباری اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے گئے۔
سعودی سفیر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعلقات مزید مستحکم بنانے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دونوں جانب سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی سفیر نے وزارت تجارت کے ساتھ مستقل رابطے اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں،دونوں ممالک کا تجارت، سرمایہ کاری اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے باقاعدہ رابطوں اور پیش رفت کا جائزہ لینے پر اتفاق ہوا۔











