مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی روابط برقرار رکھنا ضروری ہے، سلامتی کونسل کا پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان

7

اسلام آباد، 6 نومبر (اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ فعال مسلح مخاصمت کے دوران سفارت کاری کے کردار سے متعلق صدارتی بیان میں مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی روابط برقرار رکھنے، کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

صدارتی بیان میں سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستوں کو اپنے بین الاقوامی تنازعات مکالمے، سفارت کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنے چاہئیں تاکہ عالمی امن و سلامتی اور انصاف کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ مسلح تنازعات شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی روابط کی اہمیت برقرار رہتی ہے کیونکہ ان کے ذریعے کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے، جنگ بندی اور انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔

سلامتی کونسل نے تنازعات کے فریقین کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطوں کو برقرار رکھنے، ثالثی، اعتماد سازی اور مسلسل سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تنازعات کے پرامن تصفیے کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے اور تنازعات کے بنیادی اسباب کے حل کے لیے ان کی سنجیدہ شرکت اور حقیقی عزم ناگزیر ہے۔

سلامتی کونسل نے امن کے قیام میں رکن ممالک، علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے سفارتی کردار کو بھی تسلیم کیا اور اقوام متحدہ کے ساتھ ان کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔

بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ان کے خصوصی ایلچیوں اور ثالثوں کی کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی عدالت انصاف بھی ریاستوں کی جانب سے اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کیے جانے کی بنیاد پر تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ مسلح تنازعات سے قبل اور ان کے دوران مکالمے، ثالثی، کشیدگی میں کمی اور پائیدار سیاسی حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے حسب ضرورت سلامتی کونسل کو آگاہ کرتے رہیں۔