اسلام آباد ، 19فر وری (اے پی پی): اسپیکر اسد قیصر نے کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے ۔کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے تشت از بام ہے۔ عالمی برادری خصوصا برطانوی پارلیمنٹ کشمیر میں بگڑتے حالات کا نوٹس لے ۔
پارلیمنٹ ہاوس میں دولتِ مُشترکہ ایسوسی ایشن (سی پی اے) برطانیہ کے پانچ رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور پاکستان پارلیمانی سطح پر بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ کرتارپور راہداری کو کھولنا پاکستان کی طرف سے امن کی جانب ایک قدم تھا جس کا بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں دونوں ممالک کے عوام امن و سکون سے رہ سکیں جبکہ موجودہ بھارتی حکومت پاکستان دشمنی کے نعرے پر اپنا الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات سے خطے میں جنگی حالات کو تقویت مل رہی ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جنگ و جدال کی زبان خطے میں بہتری نہیں بلکہ حالات میں مزید بگاڑ لائے گی۔ الیکشن نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستقبل کے امن اور ترقی کو ہدف بنا کر لڑے جاتے ہیں۔ مودی سرکار پاکستان کی بجائے غربت اور افلاس کو اپنا ہدف بنائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے،اور انہیں پارلیمانی اور اقتصادی رابطوں کو فروغ سے دے کر مزید وسعت دینے کاخواں ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اراکینِ پارلیمنٹ کے وفود کے تبادلوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے دونوں ممالک کے اراکینِ پارلیمنٹ کو ایک دوسر ے کے تجربات سے مُستفید ہونے کے مواقع حاصل ہونگے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے خطے میں امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمشنر کی رپورٹ ہندوستان کے لیے لمحہ فکر ہونی چاہیے ۔ انہوں نے بی جے پی کے قوم پرست ایجنڈے پر بھی مایوسی کا اظہار اور خطے میں امن کی کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے برطانیہ کی پارلیمنٹ کی طرف سے پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وفد میں رکن برطانوی پارلیمنٹ ناز شاہ، فیصل رشید، لارڈ روگن اور برطانوی پارلیمنٹ کے افسران شامل تھے۔
اے پی پی /صائمہ/رضوان
وی این ایس اسلام آباد











